30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
المحیط السرخسی والتنویر والھندیۃ وغیرھا(جیسا کہ محیط سرخسی،تنویر اور ہندیہ وغیرہا میں ہے۔ت)کہ اب صندوق ومافیہ پر زید کا قبضہ نہ رہتا اور کھلے ہونے کے سبب ہندہ کو قبضہ زر پر فی الحال تمکن ہوتا مگر یہاں ایسا نہ ہوا تو تخلیہ نہ ہوا تو قبضہ حقیقی یا حکمی اصلا نہ ہوا تو ہبہ تمام نہ ہوا،اور قبل قبضہ موت واہب سے ہبہ باطل محض ہوگیا،
|
فی الدرالمختار من موانع الرجوع والمیم موت احد المتعاقدین بعدا لتسلیم فلو قبلہ بطل[1]۔ |
درمختارمیں رجوع کے موانع کی بحث میں ہے میم سے مراد کسی کا قبضۃ دینے کے فوت ہونا ہے اور قبضہ سے قبل ہو تو ہبہ باطل ہے۔(ت) |
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ زید جبکہ حسب تحریر سوال عالم وعارف باحکام فقہیہ تھا تو اس کا علم ہی بتارہا ہے کہ اسے تکمیل ہبہ منظور نہ تھی،وہ جانتا تھا کہ ہبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتا اور قبضہ ایك آن کو نہ دیا،حسب تصریح سوال وقت نکاح سے ہی اس روپے کو اپنی گرہ اپنے صندوق اپنی الماری میں محبوس رکھا وہ جانتا تھا کہ اگر میں ہندہ کا قبضہ حقیقی نہیں کراتا تو کم از کم تخلیہ تو ضرور ہے اور وہ یونہی ہوگا کہ میں روپیہ صندوق سے نکال کر ہندہ کے نہایت قریب زمین پر رکھ اسے حکم قبضہ دوں مگراس نے کبھی روپے کو ہوانہ دی،صندوق میں سے روپیہ درکنار الماری میں سے صندوق بھی نہ نکالا یہ تو سو بار کہا کہ یہ روپیہ تیرا ہے تیری امانت ہے او ریہ ایك بار بھی نہ کہا کہ میں تخلیہ کرتاہوں تو قبضہ کرلے،تو بحال علم وفقاہت شرائط لازمہ متحقق نہ ہونے دینا صریح دلیل ہے کہ وہ قصدا تکمیل ہبہ سے باز رہا۔
|
فماذکر من ان کونہ عالما فاضلایقتضی کونہ باذلا لاھازلا یعارضہ صریحا ان علمہ ذٰلك ھوا لقاضی بکونہ عاضلا مع ان الاول لیس الاتحسین ظن بتخمین و ھذا علی تقدیر معرفتہ باحکم مثبت امتناعہ بیقین۔ |
اس کایہ کہنا کہ وہ عالم فاضل ہے ا س لئے اس کا یہ عمل دینے کے لئے ہوگا مذاق نہ ہوگا،اس کو صریح معارض ہے کہ عالم فاضل ہونے کے باوجود اس کایہ عمل فیصلہ کرتاہے کہ اس نے قصدا تکمیل ہبہ نہ کی،حالانکہ پہلا احتمال(دینے کا ارادہ) صرف اندازے کی بنا پر حُسن ظن کا اظہار ہے جبکہ اس کا معارض احکام سے واقف ہونے کی تقدیر پر ہبہ نہ دینے کا یقینی ثبوت ہے۔(ت) |
اور اس پر دوسری روشن دلیل اس کا بارہا رونا اور خوف ضیاع بیان کرنا ہے عاقل جس چیز سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع