30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر تخلیہ صحیح نہ ہوا کہ گھوڑا دست بائع میں تھا
|
فی البحر الرائق وان کان غلاما اوجاریۃ فقال لہ المشتری تعال معی اوامش فخطی معہ فہو قبض و کذا لوارسلہ فی حاجتہ،وفی الثواب ان اخذہ بیدہ او خلی بینہ وبینہ وھو موضوع علی الارض فقال خلیت وبینك وبینہ فاقبضہ فقال قبضتہ فہو قبض[1] ،وفی الذخیرۃ ثم الھندیۃ ان کانت الرمکۃ فی یدالبائع و لم تصل الیھا یدالمشتری فقال البائع للمشتری قد خلیت بینھا وبینك فاقبضھا فانی انما امسکہا لك فانفلتت من ید البائع قبل ان یقبض المشتری وھو یقدر علی اخذھا من البائع وضبطھا کان الہلاك علی البائع [2]اھ(ملخصا)ومثلہ فی الخانیۃ وتمامہ تحقیقہ فیما علقنا علی ردالمحتار۔ |
بحرالرائق میں ہے اگر غلام یا لونڈی ہو اور مشتری اس کو اپنے ساتھ چلنے کو کہے اور وہ ساتھ چل پڑے تو مشتری قابض قرار پائے گا اور یوں ہی اگر اس غلام کو مشتری نے اپنے کام کے لئے بھیج دیا اور کپڑے کی صورت اگر مشتری کے ہاتھ میں دے دیا یا بائع نے اس کو اپنے اور مشتری کے درمیان زمین پررکھ دیا اور کہا میں نے تیرے لئے تخلیہ کردیا ہے قبضہ کرلے،اور مشتری نے کہا میں نے قبضہ کرلیا تو قبضہ ہوجائے گا اور ذخیرہ پھر ہندیہ میں ہے کہ گھوڑی بائع کے قبضہ میں ہے اور مشتری کے ہاتھ سے دور ہے اور بائع کہہ دے کہ میں نے تیرے لئے اس کو پکڑ رکھا ہے میں نے تیرے اور اس کے درمیان تخلیہ کردیا پکڑلے تو قبل از قبضہ اس موقعہ پر اگر وہ گھوڑی بائع کے ہاتھ سے چھوٹ کر بھاگ جائے تو اگرچہ مشتری بائع سے لےکر قابو کرنے پر قادر بھی تھا تو بھی نقصان بائع پر ہوگا اھ(ملخصا)یہ تمام بحث خانیہ میں ہے اور مکمل تحقیق ردالمحتار پرہمارے حاشیہ میں ہے۔(ت) |
اور بداہۃ ظاہر ہے کہ جو چیز اپنے صندوق میں رکھی ہے اور صندوق اپنی الماری میں ہے اور مالك نے آپ انھیں کھولا اور صندوق بدستور الماری میں رکھا ہے اور وہ خود انھیں کھولے ہوئے بیٹھاہے تو قطعا اسی کا قبضہ ہے،پھر تخلیہ کہا متحقق ہواکہ روپیہ اصل قبضہ مالك سے ایك وقت بھی خاکی نہ ہوا بخلاف اس کے کہ صندوق کھول کر صندوق ہندہ کے ہاتھ میں دے دیتا کما فی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع