30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان المسلم یصح اقرارہ بخمر کما فی الدرر والبحر و التنویر وغیرھا حتی یؤمر بتسلیمھا کما فی ش و لا یصح کونہ ملکا لھا کما فی الہدایۃ۔
(۱۱)ولوتنزلنا فانما یکفی تصور سبب ماولیس علی احد تعیینہ بل لیس لاحد غیر المقر لان المجمل لابینہ الامن اجمل فظہر ان الاستدلال علی تمام الھبۃ المذکورۃ باقرارہ بالامانۃ لاتمام لہ اصلا۔
(۱۲)اذ الامر کما وصفنا ان الاقرار لیس دلیلا انیا علی تمام الھبۃ فلو کان دلیلا لکان لمیا والاقرار اظہار لااثبات فلو جعل اثباتا لداروالامناص۔ |
کے باوجود اگر وہ کسی کے لئے شراب کا اقرار کرے جیسا کہ درر،بحر اور تنویر وغیرہا میں ہے کہ اس کااقرار صحیح ہے، اورشامی میں ہے کہ اس کو ادائیگی کاحکم دیا جائے گا،مسلمان کےلئے شراب کی ملکیت کا صحیح نہ ہونا ہدایہ میں مذکور ہے۔(ت) اوراگر تنزل کے طور پر تسلیم بھی کرلیں تو صرف کسی سبب کا تصور ہی کافی ہوگا مقر کے علاوہ کسی کو بھی اس کی تعیین اوربیان کرنا لازم نہیں ہےکیونکہ مجمل کو صرف اجمال بولنے والا ہی بیان کرسکتاہے تو واضح ہوگیا کہ ہبہ کے تام ہونے پر اس کے اقررار بالامانت کو دلیل بنانا قطعا درست نہیں ہے۔(ت) جب معاملہ وہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے توپھر اقرار ہبہ کے تام ہونے پردلیل انی نہ ہوگا اگرہوگ اتو دلیل لمی ہوگا یعنی اقرار محض ثبوت نہیں کہ اظہار ہوتاہے اثبات نہیں بنتا۔ہاں اگر اثبات قرادیا جائے تو ناچاردور لازم آئیگا۔(ت) |
رابعًا تخلیہ کی شرط ثالث سے مستفاد بلکہ حقیقۃ لفظ تخلیہ کا مفادیہ ہے کہ تخلیہ کرنے والا اسے اپنے قبضہ سے خالی کردے کہ شے جب تك خود اس کے قبضہ میں ہے تخلیہ کہاں ہوا۔ولہذا بحرالرائق نے تصور تخلیہ میں اس شیئ کا زمین پر رکھا ہونا ماخوذ کیا،ولہذا اگر گھوڑا بیچا اور بائع اس کی یال تھامے ہوئے مشتری سے کہہ رہا ہے کہ گھوڑے پر قبضہ کرمیں اس کی یال تیرے ہی لئے تھامے ہوئے ہوں کہ بھاگ نہ جائے اور تو قابو میں کرلے اور مشتری پاس کھڑا ہےکہ قبضہ کرسکتاہے مگر وہ اپنا ہاتھ نہ رکھنے پایا تھا کہ گھوڑا چھوٹ کر گم ہوگیا،بائع کے مال سے گیا کہ قبل قبض ہلاك ہوا تو بآنکہ مشتری قبضہ پر فی الحال قادر تھا اور بائع صاف حکم قبضہ کررہا تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع