30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وحدیث الالغاء لایستحق الاصغاء فان الاقرار لم یعرعن حکمہ من ان المقر مؤاخذ بہ قضاء ان لم یثبت بطلانہ حیث یصیر مکذبا شرعا فاین التعطیل حتی یجوز التجوز والتحویل اماانہ لایقوم بافادۃ الملك للمقرلہ فہذا عین حکمہ ولو کان فیہ الغاوہ لانمحی الاقرار من صفحۃ الدنیا لان لالفاء اذن یلزم حکمہ وحکم الشیئ لازمہ لہ فالالغاء یلزم الاقرار وما کان الغاؤہ لازم وجودہ فوجودہ عدم وبعبارۃ اوضح لوجوب حمل کل اقرار علی انشاء محضر کی یفید الملك والایلغوالاقرار غیرالانشاء فتبطل راساوانعدام،
(۸)کفانا المؤنۃ مامرنی مباحث السؤال نفسھا ان اقرارہ یجب ان یحمل علی سبب صالح حتی لایلزم الالغاء فقد علم ان حملہ علی تقدم سبب مامصحح للاقرار یکفی لاعمالہ ویندفع الالغاء ومعلوم نہ یبقی بہ علی حقیقتہ فالعدول الی المجاز فرار عن الالغاء مما لاوجہ اصلا۔ (۹)بل الاقرار بشیئ انہ لفلان |
ان کی لغوکرنے والی بات قابل التفات نہیں ہے،کیونکہ اقرار جب تك شرعا جھوٹا ہوکر باطل نہ قراردیا جائے تو اس وقت تك وہ اپنے حکم جو کہ مقرکا اپنے اقرار میں قضاءً ماخوذ ہونا ہے،سے خالی نہیں ہوتا تو یہاں وہ کب معطل ہے کہ مجاز کی طرف پھر ناجائز ہو اور یہ کہ وہ مقرلہ کے لئے ملکیت کا فائدہ نہیں دیتا(تو غلط ہے)کیونکہ یہی تو اقرار کا حکم ہے اورا گر یہی لغو قرارپائے تو پھر دنیا میں اقرار کا وجود نہ رہے گا کیونکہ اس طرح الغاء حکم کو لازم ہوگا اورحکم خود شیئ کو لازم ہے تو یوں الغاء خود اقرار کو لازم ہوگا اورجس چیز کو الغاء لازم الوجود تو اس کا وجو د معدوم قراپائے گا اور آسان عبارت میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہرا اقرار کو انشاء محض پرمحمول کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ملکیت کے لئے مفید ہوااور لغونہ ہو جبکہ اقرار انشاء نہیں ہوسکتا تو اقرار سرے سے باطل ہوگا اورختم ہوجائے گا۔(ت) اورخود اس نے ہمیں سوال کی مباحث کی تکلیف سے فارغ کردیا جب اس نے کہہ دیا کہ اقرار کوکسی مناسب کردیا جب اس نے کہہ دیا کہ اقرار کوکسی مناسب سبب پرمحمول کرنا ضرورت ہے جو اقرار کو صحیح کرے یہ بات اقرار کی صحت وعمل کے لئے کافی ہے اور لغو نہ ہوگا تو ظاہر ہوگیا کہ اقرار اپنے حقیقی معنی پر ہے تو اب الغاء سے بچنے کے لئے مجاز کی طرف عدول کی کوشش بلاجواز ہے۔(ت) بلکہ کسی چیز کے متعلق اقرار کہ یہ فلان کی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع