30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۶)نصوص صریحہ مذہب وخود صاحب مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے خلاف اگر کوئی روایت شاذہ پائی جاتی نامقبول ہوتی نہ کہ روایت مطلقہ کہ مخالف بھی نہ ٹھہرتی بلکہ اسی مقید پر محمول ہوتی۔
|
لانہ متفق علیہ فی کلمات العلماء وانما الخلاف فی نصوص الشارع کما فی ردالمحتار وغیرہ من المعتمدات |
کیونکہ یہ تمام علماء کے کلام میں متفق علیہ ہے صرف شارع کی نصوص میں خلاف ہے،جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ معتمد کتب میں ہے۔(ت) |
نہ کے بے استناد روایت محض ذہنی حکایت کہ وہ کیا قابل التفات وعنایت،
|
فالمشتری ان عددالثمن فی ید البائع اوذیلہ اوحجرہ لم یحتج البتۃ الی قولہ خذہ ونحوہ لان الحقیقی غنی عن شرائط الحکمی وان عددہ علی الارض بین یدی نفسہ فلایسلم انہ تخلیۃ مالم یقلہ اوینقلہ۔ |
جب مشتری نے رقم بائع کے ہاتھ یا جھولی یا دامن میں گنتی کرکے ڈالی تو اب اس کو یہ کہنے کی ضرورت ہر گزنہیں کہ "تو پکڑلے"کیونکہ حقیقی قبضہ کے بعد حکمی شرائط کی ضرورت نہیں ہے۔ہاں اگر مشتری اپنے سامنے زمین پر گن کر رکھ دے تو یہ تسلیم نہ ہوگا کہ یہ تخلیہ ہے جب تك پکڑ نہ لے،نہ کہہ دے یا وہاں سے مشتری اٹھا نہ لے۔(ت) |
(۷)زید کاکہنا"یہ تیرا روپیہ ہے"صراحۃ اقرار ہے، فتاوٰی قاضیخان وفتاوٰی بزازیہ و فتاوی ہندیہ میں ہے:
|
لو قال لاٰخر"ایں چیز ترا"فہو ھبۃ یشترط فیھا القبض ولو قال"تراست"فاقرار [1]۔ |
اگردوسرے کو کہیا کہ یہ چیز تجھ کو تو ھبۃ ہوگا اور اس میں قبضہ شرط ہوگا اور اگر کہا کہ یہ چیز تیری ہے تواقرار ہوگا۔(ت) |
تو اس سے انشائے اجازت قبض مراد لینا محض مجاز،ا ور مجاز بے ضرورت ممنوع ونامُجاز اور ضرورت معدوم،تو تخلیہ کی پہلی شرط تمکن قبض کا تو وجود معلوم نہ تھا،اس دوسری شرط یعنی امر بالقبض کا عدم معلوم،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع