30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کان ابوحنیفہ یقول القبض ان یقول خلیت بینك وبین المبیع فاقبضہ ویقول المشتری وہو عند البائع قبضتہ [1]۔ |
امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ تخلیہ کے ساتھ قبضہ یہ ہے کہ میں نے تیرے اور مبیع کے درمیان تخلیہ کردیا ہے اس کو لے لو،اور مشتری بائع کی موجودگی میں کہے میں نے قبضہ کیا۔(ت) |
بالجملہ نقول اس مسئلہ میں متظافر ہیں اور سب سے اعظم یہ کہ وہ خود صاحب المذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا منصوص ہے:فایاك ان تتوھم ممافی الدر تبعا للنہر انہا من زیادات الناطفی۔درمختار میں نہر کی پیروی میں جوکہا کہ یہ ناطق کے زیادات میں سے ہے،اس وہم سے بچ کر رہنا۔(ت)
(۵)یہیں سے ظاہر کہ عبارات علماء میں جہاں تخلیہ مذکو ر ہے یہ شرط منظورہے۔
|
فان الشیئ اذا اثبت ثبت بلوازمہ و من قال رجل صلی فلیس علیہ ان یقول بطاھر فی طاھر علی طاھر ناویا مستقبلا مکبرا فقد تضمن الکل قولہ صلی،فلا تظن امثال قول الخانیۃ البائع اذا خلی بحیث یتمکن المشتری من قبضہ یصیر قابضا[2] انہا خالیۃ عن ھذ الشرط فضلا عن کونہا صرائح فی انہ لیس بشرط۔ |
جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو اپنے تمام لوازمات کے ساتھ ثابت ہوتی ہے،اور جو شخص کسی کے متعلق کہے کہ"فلاں نے نماز پڑھی ہے"تو اس کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں،پاك حالت،پاك پانی،پاك جگہ،نیت کے ساتھ،قبلہ کی طرف اور تکبیر کہہ کر،کیونکہ نماز کا ذکر ہی ان سب کو متضمن ہے،لہذا خانیہ کے قول کہ"بائع جب تخلیہ کردے اس اندازمیں مشتری کو قبضہ پر تمکن حاصل ہوجائے تو مشتری قابض قرار پائے گا" سے تجھے یہ گمان نہ ہوکہ یہ اس شرط سے خالی ہے چہ جائیکہ تو عدم شرط پر اس کوتصریح قرار دے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع