30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)امام اجل ممدوح ودیگر اجلہ نے صراحۃ عدم امرمذکور کی حالت میں عدم صحت تخلیہ پر نص فرمایا،فتاوٰی قاضیخاں وفتاوٰی ظہیریہ وفتاوٰی ہندیہ وبحرالرائق وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
|
والللفظ للخانیۃ ان دفع الیہ المفتاح و لم یقل خلیت بینك وبین الدار فاقبضہ لم یکن ذٰلك قبضا[1]۔ |
خانیہ کے الفاظ میں۔اگر اس نے چابی دے دی اور یہ نہ کہا کہ میں نے تیرے اور گھر کے درمیان تخلیہ کردیا ہے تو قبضہ کرلے تویہ قبضہ نہ ہوگا(ت) |
محیط پھرعالمگیریہ میں ہے:
|
اذا لم یقل اقبضہ فانما القبض ان ینقلہ [2]۔ |
جب قبضہ کرلے نہ کہا تو پھر وہاں سے منتقل کرنا ہی قبضہ قراردپائے گا۔(ت) |
تو کلام امام قاضیخاں کو عدم اشتراط پر حمل کرنا خود ان کی تصریح صریح کےخلاف ہوگا
(۳)امام اجل موصوف ودیگر اکابر یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ مطلقا امر بالقبض بھی کافی نہیں بلکہ خاص وہ امر بالقبض درکار ہے جو اس شیئ کی طرف مضاف ہو،مثلا ہبہ یا بیع کرکے کہا لے لے یا قبضہ کرلے،تخلیہ نہ ہوا جب تك یوں نہ کہے کہ یہ چیز لے لے یا اس پر قبضہ کرلے،فتاوٰی قاضی خاں و بحرالرائق وفتاوٰی ذخیرہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
|
لو قال"خذ"لا یکون قبضا ولو"خذہ"فہو قبض اذا کان یصل الی اخذہ ویراہ [3]۔ |
اگر کہا"پکڑلے"تو قبضہ نہ ہوگا،اور یہ کہا کہ"اس کو پکڑلے"تو قبضہ ہوگا بشرطیکہ چیز کو ہاتھ پہنچ جائے اور اس کو نظر آئے۔(ت) |
(۴)امام اجل مذکور کے فتاوٰی اور کتاب الاجناس وشرح الجمع لابن ملك وغمز العیون والبصائر وبحرالرائق وغیرہا میں تخلیہ کی شرائط شمار کیں اور ان میں قول مذکور کو ایك مستقل شرط گنا۔اورنہر الفائق ودرمختاروفتاوٰی ہندیہ وحاشیہ طحطاویہ وردالمحتار وغیرہا میں اسے مقرر رکھا۔امام ناطفی وابن فرشتہ وسید حموی کی عبارت یہ ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع