30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الخلاف وہوانما یقدم الاظہر الاشہر وبہ جزم الامام شمس الائمۃ الحلوانی ولم یمل الی ذکر الخلاف کما فی بیوع الخاقانیۃ |
جبکہ خانیہ اظہر واشہر کو مقدم ذکر کرتاہے اور اسی پر شمس الائمہ حلوانی نے جزم کیا اور مخالف قول کو ذکر تك نہ کیاجیسا کہ خاقانیہ کے بیوع کے باب میں ہے۔(ت) |
مگریہاں اعتبار تخلیہ کے لئے جو تمکن قبض شرط ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ شیئ موہوب موہوب لہ سے اس قدر قریب ہوکہ یہ ہاتھ بڑھائے توا س تك پہنچ جائے اٹھ کر اس کے پاس جانے کی حاجت نہ ہو فقط الماری اور صندوق کا کُھلاہونا ہرگز کافی نہیں۔
بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
|
لواشتری ثوبا فامرہ البائع بقبضہ فلم یقبضہ حتی اخذہ انسان ان کان حین امرہ بقبضہ امکنہ من غیر قیام صح التسلیم وان کان لایمکنہ الابقیام لایصح [1]۔ |
اگر کسی نے کپڑا خریدا تو بائع نے اس کوقبضہ کرنے کاحکم دیا، ابھی وہ قبضہ کرنہ پایاتھا کہ دوسر ے شخص نے وہ کپڑا پکڑ لیا، اگر قبضہ کے حکم کے وقت مشتری کو اس کپڑے پر قبضہ کے لئے قیام کے بغیر قدرت تھی تو بائع کا یہ حکم تسلیم کے قائم مقام ہوگا اور قیام کے بغیرقبضہ پرقدرت نہ تھی تو تسلیم صحیح نہ ہوگا۔(ت) |
فتاوٰی قاضیخاں وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
ان کان حین امرہ البائع بالقبض امکنہ ان یمد یدہ ویقبض من غیر قیام صح التسلیم والافلا [2]۔ |
جب بائع نے اس کو قبضہ کاحکم دیا اس وقت اس کو ہاتھ بڑھاکر بغیر قیام قبضہ پر قدرت تھی تو تسلیم صحیح ہے ورنہ نہیں۔(ت) |
یہاں سائل نے کچھ بیان نہ کیا کہ الماری کھولتے وقت ہندہ کتنے فاصلہ پر ہوتی تھی،نہ اس نے کہاکہ کبھی زید نے اس وقت ہندہ کو بلاکر اتنا پاس بٹھاکر یہ الفاظ کہے کہ ہندہ ہاتھ بڑھاتی تو روپوں کی تھیلی ہاتھ میں آجاتی تو شرط تخلیہ کا تحقق سوال سے ظاہر نہیں بلکہ ظاہر عدم ہے کہ ایسا ہوا ہوتا تو اس کا بیان ترك نہ کرتا،
|
لما یترا أی من کلام عن الاستقصاء |
کیونکہ پورا واقعہ بیان کرنے اور ہبہ کو تام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع