30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالصواب ان تعریف القاضیخاں اکثری لاحصری و لایشترط فی جمیع افراد التخلیۃ الامر بالقبض بل امدارھا علی ان یکون المخلی عنہ بحیث یتمکن من قبضہ بعد اجازۃ المخلی بالقول او بدلالۃ الحال ویدل علی ھذا اطلاقات القاضیخاں ایضا جلد ۲ صف ۳۹۴ حیث قال البائع اذا خلی بین المبیع وبین المشتری بحیث یتمکن المشتری من قبضہ یصیر المشتری قابضا للمبیع [1] ففیہ تصریح ان الامر بالقبض غیر مشروط فیہا ولا قائل بالفرق بین التخلیۃ فی البیع والھبۃ حتی یقال بالاشتراط فیھا دونہ ولان عبارۃ القاضیخاں قبیل ھذا ص ۳۹۴ شاھدۃ بمساوات التخلیتین، وایضًا لایدل علی الاشتراط مفہوم التخلیۃ ولا اصطلاحھم ولا لما ذھلوا عنہ اکثر من ان یحصی،وایضا لا یمکن الانکار لاحد عن التخلیۃ مع عدم الامر فیما اذا عدد المشتری الثمن عند |
بہتر جانتاہے کہ بیشك قاضی خاں کی تعریف اکثری ہے حصری نہیں ہے تخلیہ کے تمام افراد میں قبضہ کاحکم کرنا شرط نہیں بلکہ تخلیہ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ تخلیہ دینے والے کی اجازت قولی یا حالی کے بعد چیزاس طرح موجود ہو کہ مشتری یا موہوب لہ کو اس پر قبضہ کا تمکن حاصل ہوجائے، اس پر خود قاضی خاں کے اپنے اطلاقات دال ہیں انہوں نے جلد ۲ ص ۳۹۴ میں فرمایا کہ بائع نے جب مبیع چیز اور مشتری کے مابین تخلیہ یوں کردیا کہ مشتری کو قبضہ پر تمکن حاصل ہوجائے تو مشتری کو مبیع پرقابض قرار دیا جائے گا تو اس میں تصریح ہے کہ قبضہ کا حکم شرط نہیں ہے جبکہ بیع اور ہبہ میں تخلیہ کے اعتبار سے فرق کا کوئی قابل نہیں ہے،تاکہ یہ کہا جاسکے کہ ہبہ کے تخلیہ میں شرط ہے اور بیع میں شرط نہیں اور اور اس لئے بھی کہ اس سے تھوڑا پہلے صفحہ ۳۹۴ پر قاضی خاں نے اپنی عبارت میں دونوں تخلیوں کو مساوی قراردیا ہے،نیز تخلیہ کا مفہوم اور فقہاء کی اصطلاح اشتراط پر دال نہیں ہے ورنہ فقہاء کبھی اس کو نظرانداز نہ فرماتے حالانکہ ان کی بے شمار تصریحات اس کے ذکر سے خالی ہیں،نیز جب مشتر ی ثمن کے دراہم کو مبیع کے پاس گنتی کرے اور بائع کو قبضہ کرنے کا نہ کہے تو کسی کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع