30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حصتہا من الترکۃ معترضین علیھا بقیۃ الورثۃ بان ماقبضت من النقود ہو محسوب من حصتك من الترکۃ والہندۃ تقول فی جوابھم بان النقود قد جھزئی بھا ابی فہولا یحسب من حصتی من الترکۃ بل یجب ان تکون لی حصہ غیرہا والدلیل الثانی علی تمام الہبۃ بالقبض الحکمی والتخلیۃ المذکورۃ اقرا زید بالامانۃ کمامرمن انہ ربما یبقی ویقول ان دراھم الہندۃ امانۃ عندی واخاف من ضیاعہا وبیان دلالتہ ان المقرکان عارفا معنی الھبۃ واحکامہا ومعنی الامانۃ واحکامہا لما مرمن فقاھتہ واتقائہ و لیس من اصطلاح الفقہاء ولا غیر ھم الاطلاق علی مال نفسہ بانہ امانۃ لزید مثلا فدل الاقرار بالامانۃ علی ان التخلیۃ المذکورۃ تخلیۃ معتبرۃ لاباعتبار المقر فقط بل باعتبار الشرع ایضا اذا الشرع ماحصر التخلیۃ فی امثلۃ معدودۃ محصورۃ حتی تنعدم بانعدامہا بل مبناہ عندالشرع علی ان یکون المخلی عنہ بحیث یتمکن من قبضۃ المخلی لہ بعد اجازۃ المخلی بالکسر وھو امرعام لایمکن انحصار نعم بختلف باختلاف المواد و |
ہندہ نے والدکے ترکہ میں اپنا حصہ طلب کیا تو انھوں نے یہ اعتراض کیا کہ تو نے جو نقد وصول کیا ہے وہ ترکہ کا حصہ ہے جواب میں ہندہ کہتی ہے کہ وہ نقد والد نے مجھے جہیز میں دیا ہے،لہذا وہ ترکہ میں شمار نہیں ہے بلکہ ترکہ میں میرا حصہ الگ ہے حکمی قبضہ اور تخلیہ سے ہبہ کے تام ہونے پر دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ زید کا اقرار تھا کہ یہ ہندہ کی امانت ہے اور کبھی روتا اورکہتا کہ یہ روپیہ میرے پاس ہندہ کی امانت ہے اور مجھے اس کے ضائع ہونے کا ڈر ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے،یہ دلالت اس لئے واضح ہے کہ زید ہبہ اور اس کے احکام اورامانت اور اس کے احکام سے بخوبی آگاہ تھا کیونکہ وہ متقی عالم تھا جیساکہ گزرا فقہاء کرام وغیرہ کی اصطلاح میں مثلا زید کے اپنے مال کو امانت نہیں کہا جاتا تو اس کے اقرار امانت کی یہ دلالت ہوئی کہ مذکورہ تخلیہ محض مقر کے اعتبار سے معتبر نہیں،بلکہ شریعت نے تخلیہ کا چند مثالوں میں حصر نہیں کیا تاکہ ان کے معدوم ہونے سے تخلیہ معدوم ہوجائے بلکہ شریعت نے اس کا مبنٰی یہ قرار دیا کہ چیز اس انداز میں موجود ہو کہ تخلیہ کرنیوالے واہب کی اجازت کے بعد قبضہ کرنیوالے کو کوئی رکاوٹ نہ ہو،یہ مفہوم عام ہے جو کسی خاص صورت میں منحصر نہیں ہے۔ہاں مواد اور تخلیہ دینے والوں کے اختلاف سے تخلیہ مختلف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع