30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الفقہیہ واجاب بعضہم بان الھبۃ قد تمت لوجود شرطہا وشرطہا اما الایجاب فظاہر واما القبول فلو جودہ من الاصہار فی مجلس النکاح واجازۃ موھوب لھا فیصح کما فی الفضولی ولوجودہ من الموھوب لہا بنفسہا بعد بلوغ الکتاب الیہا ای الفہرست المذکور المشتمل علی الایجاب والموھوب وشرط العقد یتوقف علی الغائب اذا کان بکتابۃ اوبارسال و اما شرط تمامہا وھوا القبض فہو قد یکون حقیقیا و قد یکون حکمیا وھھنا وان لم یتحقق الاول لکن الثانی متحقق ذا الشرط فی اعتبار القبض الحکمی المعبر عنہ بالتخلۃ ان یکون المخلی عنہ بحیث یتمکن عن قبضہ المخلی لہ بعد ان یصدر من المخلی بالکسر قول اوفعل یدل علی اجازۃ القبض وقد تحقق فیما نحن فیہ ھذان الامران اما الثانی ای القول والفعل الدال علی الاجازۃ فکما مرفی تحریر السوال من قول الواھب یہ تیراروپیہ ہے بعد فتح الصندوق مشیرا الی الدراھم |
یہ جواب دیا کہ یہ ہبہ تام ہوچکا ہے شرط پائے جانے کی جوہ سے شرط ایجاب وقبول ہے،ایجاب کا وقوع توظاہر ہے لیکن قبول تو وہ سسرال نے مجلس نکاح میں کرلیا اورلڑکی نے اس کی ان کو اجازت دے دی،تو قبول کرنا صحیح ہوگیا جیسا کہ فضولی کا معاملہ ہوتاہے،نیز خود لڑکی کی طرف سے اس کو لکھی ہوئی فہرست مل جانے کے بعد قبول ہوگیا کیونکہ وہ فہرست ایجاب پر مشتمل تھی اور موہوب چیز بھی اس میں درج تھی اور عقد کی شرط غائب کے قبول کرنے پر موقوف ہوتی ہےجبکہ وہ بطور تحریر یا ارسال ہو،لیکن اس ہبہ کے تام ہونے کی شرط قبضہ ہوناہے،اوریہ قبضہ کبھی حقیقی ہوتاہے اورکبھی حکمی ہوتاہے جبکہ یہاں حکمی صورت میں قبضہ پایا گیا ہے کیونکہ حکمی قبضہ تخلیہ سے ہوتاہے کہ چیز اس انداز سے موجود ہو کہ تخلیہ کرنیوالے واہب کے کسی قول یا فعل کی دلالت اجازت قبضہ پر پائی جائے اورموہوب لہ جس کے لئے تخلیہ ہوا کو قبضہ کرنا ممکن ہو،اورزیر بحث صورت میں یہ سب کچھ پایا گیا ثانی یعنی حکمی قبضہ کہ قول یا فعل اجازت پر دلالت کرے،یہ بات سوال کی تحریر میں موجود ہے کہ واہب نے صندوقچی کھول کر موہوب دراہم جو علیحدہ تھیلی میں بندھے ہوئے تھے،کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا"یہ تیرا روپیہ ہے،کیونکہ اس کی اس بات کا مقصد صرف یہی تھا کہ لڑکی قبضہ کرے جیسا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں فریقوں کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع