30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور بالفرض ان دونوں میں سے کوئی صورت ہی قرار دیجئے،جبکہ محمد افضل خاں نے اس پر ایك آن کو قبضہ نہ پایا اس کے نام ہبہ خواہ جانب ریاست سے مانیں خواہ طرف پدر سے،بہرحال باطل محض ہوگیا،برتقدیر اول تو ظاہر ہے اوربرتقدیر ثانی یوں کہ سائل نے اپنے خط میں اظہار کیا کہ محمد افضل خاں اس تبدیل سند کے وقت بالغ وصاحب اولا د تھا تو قبضہ پدرا س کا قبضہ نہیں ہوسکتا لاجرم اس کے نام ہبہ باطل ہوگیا،درمختارمیں ہے:
|
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل [1]۔ |
میم سے مراد قبضہ دینے کے بعد فریقین میں سے کسی کا فوت ہوجانا ہے اور قبضہ سے پہلے موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔(ت) |
بالجملہ کسی صورت کسی پہلو محمد افضل خاں یا اس کے کسی وارث کا اس زمین پردعوٰی نہیں پہنچ سکتا وہ اس میں سے کسی ذرہ کے مالك نہیں،یہاں بعض ابحاث فقہیہ اور ہیں جن کو سوال سے تعلق نہیں،لہذا ان کاذکر مطوی رہا،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۴: مرسلہ مولوی عبداﷲ خاں صاحب قصبہ بتیا ضلع چمپارن محلہ گنج اول ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی ہندہ بالغہ کی شادی کی اور نکاح کے وقت میں بطور جہیز مع دیگر اثاث بیت ایك ہزار روپیہ بھی دیا،دینے کی صورت یہ تھی کہ زید نے مجلس نکاح میں اشیاء دادہ شدہ کو بنام ہندہ بحضور اصہار وشوہر ہندہ کے نامزد کیا،اور ایك فہرست اشیاء مذکورہ کی لکھ کر جو مشتمل بہ ایجاب بھی تھی ہندہ کے حوالے کی،چونکہ ہندہ تاحین حیات زید مرحوم اپنے والد مرحوم کے ہم ماکل وہم مشرب عــــــہ رہی،اور وہ اس کے کل مصارف کہئے اس لئے بوجہ عدم ضرورت ہندہ نے نقود مذکورہ کوقبضہ خاص میں نہیں لایا بلکہ تازندگی زید مرحوم،زید مرحوم کے پاس رکھ چھوڑا،بعد انتقال زید ہندہ کو جب ضرورت پڑی اس کو خرچ کیا،زید مرحوم نے نقود مذکور کو الگ ایك تھیلی میں وقت نکاح سے رکھ لیا تھا،اور اس سے کوئی نفع ذاتی نہیں
عــــــہ:اصل میں قلم ناسخ سے ایك لفظ چھوٹ گیا ہے۔۱۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع