30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی حیات تك ہبہ کی جائے وہ ہمیشہ کے لئے ہبہ ہوگئی،اور حین حیات کی شرط شرعا باطل وبے اثر ہے،درمختارمیں ہے:
|
جاز العمری للمعمر لہ ولورثتہ بعدہ لبطلان الشرط [1]۔ |
عمر بھر کا ہبہ جائز ہے اور موہوب معمرلہ کی ملك ہوگا اوراس کے بعد اس کے وارث مالك ہونگے کیونکہ رد کی شرط باطل ہے۔(ت) |
اور وہ ہبہ قبضہ محمد اعظم خاں سے تام وکامل ونافذ ہولیا،اب ریاست کو کیا اختیار رہا کہ پر ایامال دوبارہ کسی اور کو ہبہ کردے،اس کی تصحیح کی دو ہی صورتیں موہوم ہوسکتی ہیں،ایك یہ کہ محمد اعظم خاں کی عرضی کہ"حسب استدعا تابعدار کے اس ملك بھوٹ کی دوسری سند میرے فرزند محمد افضل خاں کے نام نسلاوبعد نسل عطا فرمائی جائے"اسے گویا محمد اعظم خاں کی طر ف سے اس زمین کا رئیس کو واپس دینا اور اپنے بیٹے کے نام ہبہ جدید کی درخواست کرنا قرار دیں،اور ہبہ جب باہمی تراضی یا قضائے قاضی سے واہب کو واپس ہو تو وہ دوسرے سے فسخ ہبہ ہے،نہ کہ موہوب لہ کی طر ف سے واہب کوہبہ،ولہذا واہب کا قبضہ اس پر شرط نہیں،درمختارمیں ہے:
|
اذارجع بقضاء اورضاء کان فسخا لعقد الھبۃ من الاصل لاھبۃ للواہب فلہذا لایشترط فیہ قبض الواہب [2]۔ |
جب قضا یا رضا سے ہبہ میں ر جوع ہو تویہ فسخ عقد ہبہ ہوگا نہ کہ واہب کو ہبہ ہوگا لہذا واہب کا قبضہ کرنا شرط نہیں ہوگا۔ (ت) |
مگر عرضی مذکور کا ملاحظہ صراحۃً اس معنی سے اباء کرتاہے اس میں عبارت مذکور کے متصل ہے"ورنہ میں سند عطیہ سابقہ حضور اپنے ہمراہ لایا ہوں واپس پیش کردوں بدستور سابق ملك مذکور شریك خالصہ فرمائی جائے"اس سے صاف ظاہر کہ وہ اس وقت اپنا ہبہ واپس نہیں کرتا بلکہ اس درخواست کے قبول نہ ہونے پر واپسی ہبہ کہہ رہا ہے،دوسرے یہ کہ اس درخواست کو محمد اعظم خاں کی طرف سے توکیل بالہبۃ قرار دیجئے گویا وہ اپنے پسر کو خود اپنی طر ف سے ہبہ کرتا اور ریاست کو اس ہبہ کا اختیار دیتاہے،یہ معنی بھی نہ اس درخواست سے ظاہر نہ سند ثانی سے،جس میں لفظ یہ ہیں کہ
|
از حضور بہ محمد ا فضل خان معاف شد لازم کہ اراضی مذکور را از حضور معاف ومرفوع القلم دانند۔ |
سرکار کی طر ف سے محمد افضل خاں کو معاف ہوئی تو اراضی مذکورہ کو سرکار کی طرف سے معاف اور مرفوع القلم لازم سمجھیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع