30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے مراد خاص محمد اعظم خاں ہیں کہ افضل خاں،اسی عرصہ میں محمد افضل خاں کا انتقال ہوگیا،اور افضل خاں کی دو بیبیاں اور ایك لڑکی اور ایك لڑکا باقی ہے،محمد افضل خاں اپنے والد اعظم خاں کی حیات میں فوت ہوئے،اسی باعٹ ورثائے افضل خاں سب محروم الارث ہوگئے اور بدستور قدیم محمد اعظم خاں قابض اور مالك اور متصرف رہے،ایسی حالت میں اولاد افضل خاں مرحوم یا ان کی بیوی بچے مستحق ہوسکتے ہیں یانہیں؟ افضل خاں کی جائداد منقولہ وغیر منقولہ کچھ بھی نہیں،اور افضل خاں اور ان کی بیوی بچہ کی پرورش محمد اعظم خاں پدر افضل خاں کرتے رہے،اور افضل خاں کا انتقال اپنے والدمحمد اعظم خان کی حیات میں ہوگیا،تو ایسی صورت میں اس ملك بھوٹ میں افضل خاں مرحوم کی بیوی بچے مستحق ہوسکتے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب:
اس سوال کے ساتھ تحریر ونقول کہ سائل نے مرسل کیں ان کے ملاحظہ سے واضح ہوا کہ زوجہ محمد افضل خاں نے بدعوٰی وراثت شوہر اس بناء پر کہ تبدیل سند سے محمد افضل خان اس زمین کا مالك ہوگیا تھا اس پر دعوٰی ملك کیا ہے،یہ دعوٰی شرعًامحض باطل وبیجا ہے،سند ثانی بنام محمد افضل خاں میں از جانب ریاست کوئی لفظ مفیدمعنی ہبہ وتملیك نہیں،نہ ہبہ کرنا نہ عطا ہونا،نہ مالك بتانا نہ اور کوئی لفظ کہ ان کا مرادف ہو،صرف اتنے الفاظ میں کہ
|
اراضی مذکورہ ازحضوربہ محمد افضل خاں خلف معزی الیہ نسلا بعد نسل بشرط لوازم اطاعت و فرمانبرداری معاف شد لازم کہ اراضی مذکور را از حضور معاف ومرفوع القلم دانستہ بقبض و تصرف معزی الیہ واگزارند۔ |
مذکور اراضی درخواست دہندہ کے بیٹے محمد افضل خاں کے لئے سرکار کی طرف سے نسلا بعد نسل بشرط اطاعت وفرمانبرداری معاف ہوئی،لازم ہوا کہ مذکورہ اراضی سرکار کی طرف سے معاف اور مرفوع القلم قراردی گئی درخواست دہندہ کے قبضہ و تصرف میں آزاد چھوڑیں۔(ت) |
معاف ہونا کوئی الفاظ ہبہ سے نہیں بلکہ عین سے اس کا تعلق ہی صحیح نہیں،معافی مطالبہ ودیون سے متعلق ہوتی ہے کہ اس کا حاصل ابراہے،اور اعیان سے ابراباطل،درمختار میں ہے:الابراء عن الاعیان باطل [1](اعیان اشیاء سے بری کرنا باطل ہے۔ (ت)اشباہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع