30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولاصدقتہ بعد ذٰلك لکن یشترط علم المحجور علیہ حتی ان کل تصرف باشرہ قبل العلم بہ یکون صحیحًا [1](ملخصا) |
پابندی مؤثر ہوگی کہ وہ اپنے مال کو ہبہ یا صدقہ نہ کرسکے گا بشرطیکہ اس کو قاضی کی طرف سے پابندی کا علم ہو چکا ہو، لہذاعلم سے قبل اس نے اپنے مال میں جو بھی تصرف کیا جائز ہوگا۔(ملخصًا(ت) |
اسی میں ہے:
|
رجل لہ ضیعہ تساوی عشرین الف درہم وعلیہ دیون فوقف الضیعۃ وشرط صرف غلاتہا الی نفسہ قصدا منہ الی المماطلۃ وشہد الشہود علی افلاسہ جاز الوقف والشہادۃ فان فضل عن قوتہ شیئ من ہذہ الغلات فللغرماء ان یاخذوا ذٰلك منہ کذا فی المضمرات [2] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ایك شخص بیس ہزار درہم کے مساوی زمین کامالك ہے اور اس پر قرضے ہیں تو اس نے قرض کی ادائیگی میں تاخیر کے لئے اپنی زمین وقف کرکے اس کی آمدنی کو اپنی ذات کے لئے مختص کر لیا،اور گواہوں نے اس کے مفلس ہونے کی شہادت دی،تو وقف اور شہادت جائز ہوگی اور زمین کی آمدنی میں سے اس کے خرچہ سے اگر کچھ بچے گا تو قرض خواہ لیں گے،مضمرات میں اسی طرح ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۹۳: از اندورملك مالوہ چھاؤنی نواب غفور خان مرسلہ حکیم محمد اکمل خاں صاحب یکم ربیع الاول شریف ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اس مسئلہ میں کہ محمد اعظم خاں کو رئیس وقت نے ایك سند ملك بھوٹ کی تاحین حیات عطا کی،محمد اعظم خاں نے مصلحتا بطورا سم فرض کے ایك عرضی رئیس کی اجات میں پیش کی کہ اس ملك کی سند میرے فرزند افضل خاں کے نام نسلا بعد نسل عطا ہوجائے،چنانچہ حسب استدعا محمد اعظم خاں کے افضل خاں کا قبضہ کبھی اور کسی وقت میں ایك آن واحد کے واسطے بھی نہیں ہوا،اور ہمیشہ قبضہ اور تصرف وصول واصلات وٹھیکہ وغیرہ وغیرہ جملہ قسم کا نظم ونسق محمد اعظم خان کرتے رہے اور سند میں بھی رئیس وقت نے یہ لفظ تحریر کئے کہ"بقبض وتصرف میں مغرئی الیہ واگزارند"
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع