30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والوں کے حصے کے قدر جز موہوب سے آزاد ہوگیا تو ان صورتوں میں باقی کا ہبہ باطل نہ ہوگا،عالمگیریہ میں ہے:
|
المفسد ھوالشیوع المقارن لا الشیوع الطاری [1]۔ |
ہبہ کا مفسد وہ شیوع ہے جو ہبہ کو مقارن ہو اور جو بعد میں لاحق ہو وہ شیوع مفسد نہیں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
لایمنع الشیوع صحۃ لاجازتہ [2]۔ |
شیوع اجازت کی صحت کو مانع نہیں ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ۹۱: از لاہور مرسلہ مولوی عبداﷲ صاحب ۲۴ شعبان ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی دو منکوحہ میں سے ایك سے جب اس شخص نے نکاح کیا،اس کو ایك قبالہ نکاح لکھ کردیا جس میں چند مدات ہیں،منجملہ ان کے ایك مدیہ ہے جس کی عبارت(چھٹی یہ کہ جو کچھ مال واسباب میری ملك ہے اورہوگا اس سے بھی سوائے مضمون مرقومہ بالا کے نصفے دختر عموی صاحب مرحوم کا اور نصفے اہلیہ اول میری کاہے)اوراس قبالہ پر حاکم وقت کے دستخط ثبت کرادئے،پس اب بعد مرنے اس شخص قبالہ نویس کے منکوحہ اس شخص کی باستدلال اس عبارت مندرجہ قبالہ کے جس پر دستخط حاکم ثبت ہیں اس شخص متوفی کے تمام اموال وجائداد متوفی پر دعوٰی کرے اور تقسیم اس کی بنام ہر دو منکوحہ متوفی کے چاہے اور اولاد متوفی کو محروم الارث قرار دے تو شرعًا وہ جائداد ہر دومنکوحہ پر بموجب عبارت مذکورہ کے تقسیم ہوسکتی ہے یانہیں؟ اور اولاد اس شخص متوفی کی محروم الارث رہ سکتی ہے یانہیں فقط بینوا توجروا۔
الجواب:
تحریر قبالہ مذکورہ محض بے اثر ہے،وہ مال اس کی بنا پر تنہا دونوں زوجہ میں تقسیم نہیں ہوسکتا،نہ اولاد اس سے محروم ہوسکتی ہے۔
|
لانہ لیس باقرار لاضافتہ الملك الی نفسہ،ولاوصیۃ لعدم الاضافۃ الی بعد الموت مع کونہ فی الصحۃ |
کیونکہ یہ اقرار نہیں اس لئے کہ اس نے ملکیت کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور وصیت بھی نہیں کیونکہ اپنی موت کے بعد کی طرف منسوب نہیں باوجود یکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع