30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قولہ فالعمارۃ لہ ھذا لو الاٰلۃ کلھا لہ فلو بعضھا لہ وبعضھا لھا فھی بینھما ط عن المقدسی [1]۔ |
ماتن کا قول کہ"عمارت،بنانے والے کی ہوگی"یہ تب ہے جب تعمیر کا سارا سامان اس کا ہو،تو اگر کچھ اس کا اور کچھ عورت کا ہو تو عمارت مشترکہ ہوگی یہ طحطاوی میں مقدسی سے منقول ہے۔(ت) |
ہبہ نامہ کہ ظہورن اور عبدالوہاب خاں نے آبادی کے نام کیا محض باطل ہوگیا،دونوں دکانوں کے عملے تویوں ہبہ نہ ہوئے کہ ہر عملہ ظہورن وعبدالوہاب خاں دونوں میں مشترکہ تھا عملہ کا دونوں کی طرف سے ہبہ ہونا چاہئے تھا،اور ہوا ایك ایك کی طرف سے،تو ہر عملے میں دوسرے کا حصہ بے ہبہ رہا،اور وہ مشاع قابل تقسیم ہے،اور ایسی شے کا ہبہ بلا تقسیم باطل ہے،اور زمینیں یوں ہبہ نہ ہوئیں کہ چھوٹی دکان کی زمین مابلکہ زمین یعنی ظہورن نے ہبہ ہی نہ کی،عبدالوہاب خاں جس کی طرف سے اس کا ہبہ لکھا گیا مالك زمین نہ تھا اور بڑی دکان کی زمین اگرچہ ظہورن نے ہبہ کی مگر اس پر مشترکہ عملہ قائم ہے جس کا ہبہ صحیح نہ ہوا او موہوب جب غیر موہوب سے یوں متصل ہو تو ہبہ مثل ہبہ مشاع منقسم باطل ہوجاتاہے بعینہٖ اسی دلیل سے بالاخانے کا ہبہ بھی اگرچہ مالك یعنی عبدالوہاب خاں نے کیا باطل ہوا کہ وہ بھی باقی رکھنے کے لئے ہبہ ہوا تھا نہ یوں آبادی عملہ تو ڑ کر اینٹ کڑی تختے پر قبضہ کرلے،یوں ہوتا تو بالاخانہ کا ہبہ صحیح ہوجاتا جبکہ آبادی باذن عبدالوہاب خاں اسے توڑ کر عملے پر قبضہ کرلیتی مگر نہ وہ توڑ اگیا نہ یہ مقصود تھا اور اسے غیر موہوب سے اتصال تھا،لہذا وہ بھی باطل ہوگیا،عقود الدریہ میں ہے:
|
ھبۃ البناء دون الارض لاتصح الا اذاسلطہ الواھب علی نقضہ [2]۔ |
زمین کے بغیر عمارت کا ہبہ صحیح نہیں الّا یہ کہ واہب اس کو اکھاڑنے پر لگا دے۔(ت) |
ہندیہ میں ہے:
|
وھب زرعافی ارض اوثمرا فی شجر اوحلیۃ فی سیف او بناء فی دار اوقفیزا من صبرۃ وامرہ بالحصاد والجزاز، والنزع والنقض |
کھیت کے فصل یا پھل درخت پر یا تلوار میں جڑا ہوا سونا چاندی یا حویلی میں کوئی عمارت یا کھلیان میں سے قفیز غلہ ہبہ کیا اور فصل کاٹنے،پھل کوتوڑنے،تلوار سے جداکرنا،عمارت کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع