30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر اس نے انتقال کیا،شوہر اور ماں باپ اور دو۲بیٹیاں وارث چھوڑے،باپ نے اس جائداد کو یوں تقسیم کیا کہ بڑی دکان نصف نصف دونوں نواسیوں کو دی اور چھوٹی دکان میں سے آدھی نواسی کے بیٹے کو اور آدھی اپنے دور کے رشتہ کو،اور بالاخانہ کی نسبت یہ لکھا کہ جیتے جی میں مالك اور میرے بعد میرا دادا مالک،اس کے بعد اس کی لڑکیاں مالک،سوال یہ ہے کہ تقسیم مذکورہ بالا اور یہ تحریر ٹھیك ہوئی یانہیں اور عبدالوہاب خاں نے اپنا روپیہ جو دکانوں اور بالاخانے کی تعمیر میں صرف کیا تو ان میں عبد الوہاب کا کوئی حق ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں عبدالوہاب خان نے جو عملہ اپنے روپے سے اپنے لئے بنایا خاص ملك عبدالوہاب خان ہوا،بالاخانہ کہ تمام و کمال زر عبدالوہاب خاں سے بنا کل عبدالوہاب خاں کا ہے اور دونوں دکانوں میں کڑیاں بھی انھیں کی ہیں اور چنائی کہ مشترکہ اینٹوں سے ہوئی ظہورن اور عبدالوہاب خان کی حصہ رسد مشترکہ ہے،اگرکمی بیشی معلوم ہوسکے مثلا دو تہائی اینٹیں ظہورن کی ہیں اور ایك تہائی عبدالوہاب خان کی،یا بالعکس،جب تو اسی حساب سے،ورنہ نصفا نصف مشترك رہے گی۔
|
کما ھو الطریق حیث لا علم بالتفاضل کما نصوا علیہ فی غیر ما مسئلۃ من الشرکۃ وغیرھا۔ |
جیسا کہ یہ طریقہ ہے جہاں زائد کا علم نہ ہو فقہاء کرام نے شرکت وغیرہ کے کئی مسائل میں یہ تصریح فرمائی ہے۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
لوعمر لنفسہ بلا اذنھا فالعمارۃ لہ و یکون غاصبا للعرصۃ [1]۔ |
اگر عورت کی زمین پر اس نے عمارت بغیر اجازت بنائی تو عمارت بنانے والے کی ہے اور خالی زمین کا غاصب قرار پائے گا۔(ت) |
طحطاوی میں ہے:
|
فلو باذنھا تکون عاریۃ [2]۔ |
تو اگر اجازت سے تعمیر کی تو زمین عاریۃ ہوگی۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع