30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہر الفائق وعقود الدریہ میں مسئلہ مذکورہ خانیہ سے نقل کرکے فرمایا:
|
وکان ینبغی ان یقال ان اجازت الورثۃ تصح لان المانع من صحۃ الوصیۃ کونہ وارثا [1]۔ |
مناسب یہ تھا کہ یوں کہتے اگر باقی ورثاء جائز کردیں تو صحیح ہے کیونکہ وصیت کے موانع میں سے وارث ہونا بھی ہے۔(ت) |
جامع المضمرات شرح قدوری وعالمگیریہ میں ہے:
|
مریضۃ وھبت صداقھا من زوجھا ان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ [2]اھ مختصرًا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مریضہ نے اپنا مہر خاوند کو ہبہ کیااور وہ مرض الموت کی مریضہ ہے تو یہ ہبہ ورثاء کی اجازت کے بغیر صحیح نہیں اھ مختصرا۔ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۸۸: ۲۱ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ظہورن نے اپنی ایك دکان کی تعمیر عملہ کے نسبت اپنے داماد عبدالوہاب خان کو اجازت دی کہ اسے تم اپنے روپے سے درست کرلو جو کچھ کرایہ تمہارے عملے کی وجہ سے بڑھ جائے گا وہ تم لیا کرنا،عبدالوہاب خاں نے اس ایك دکان کو دو دکانیں کردیا بڑی اور چھوٹی،دکان کا پہلا عملہ جو تھا اس میں سے کڑیاں بیکار نکل گئیں،عبدالوہاب خاں نے کڑیاں اپنے ہی پاس سے ڈالیں مگر اینٹیں اگلی اور اپنے پاس سے نئی ملاکر دونوں دکانیں بنائیں،یہ تعیین نہیں ہوسکتی کہ کس دکان میں کتنی اینٹ پہلی اور کتنی نئی ہے،پھر عبدالوہاب خاں نے دونوں دکانوں پر خاص اپنے روپے سے بالاخانہ بنایا۔اب ان دکانوں کا کرایہ دس روپے ماہوار ہوگیا پہلے پانچ روپے تھا،حسب قرارداد ظہورن اور عبدالوہاب خاں پانچ روپے ماہوار لیتے رہے،یہ تمام عملہ عبدالوہاب خان نے ظہورن کی اجازت سے اپنے روپے سے اپنے لئے بنایا،۱۸۹۸ء میں اس دکان کا ہبہ نامہ ظہورن وعبدالوہاب خاں کی طرف سے اس کی دختر اور اس کی زوجہ آبادی کے نام بایں تفصیل لکھا گیا کہ بڑی دکان ظہورن کی طرف سے اور چھوٹی دکان اور بالاخانہ عبدالوہاب خاں کی طر ف سے آبادی کے نام ہبہ ہوا،آبادی نے وصیت کی کہ جو کچھ میری ملك ہے اس کا مالك میرا خاوند ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع