30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نسأل اﷲ العافیۃ۔ |
ہیں،ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت کے طالب ہیں۔(ت) |
مسلمان زندہ یامردہ جسے چاہیں تلاوت قرآن وغیرہ جس نیك کام کا ثواب چاہیں پہنچاسکتے ہیں،بفضلہ تعالٰی پہنچتاہے اور اسے نفع دیتاہے،حافظ قرآن پر اس شرط کی پابندی نہ حیات واہبات میں واجب ہے نہ ان کے بعد،
|
کما تقدم ان الشرط فی الھبۃ ھو الذی یبطل والباطل لاعمل لہ۔ |
کیونکہ پہلے گزرا ہے ہبہ میں فاسد شرط خود باطل ہوجاتی ہے اور باطل شرط کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔(ت) |
مگر ایفائے وعدہ اور احسان بعوض احسان کے طورپر اسے مناسب ہے کہ جب تك یہ دوسری واہبہ زندہ ہے ان مورثوں کو جتنا چاہے پڑھ کر بخشتارہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۷: ۷ربیع الآخر ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے مرض الموت میں اپنے شوہر زید کو اپنا دین مہر معاف کردیا،اب زید بری ہوگیا یا یہ معافی وصیت متصور ہوکر زید دوثلث کے ادا کا عنداﷲ مواخذہ داررہے گا اگرچہ ورثہ دنیا میں شرم سے نہ مانگیں۔ بینوا توجروا
الجواب:
مرض الموت میں اپنا دین دائن کوہبہ یا معاف کرنا حکم وصیت میں ہے اور زوج وارث ہے اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگر ورثہ باطل ہے کہ ثلث وغیرہ کسی حصے میں نافذ نہیں ہوسکتی۔پس صورت مسئولہ میں اگر کل وارث عاقل بالغ ہوں اور اس معانی مہر کوجائز رکھیں معاف ہوجائیگا،اوربعض اجازت دیں تو بقدر انہیں کے حصہ کے ساقط ہوگا اور کوئی اجازت نہ دیں تو دیگر ورثاء کا حصہ کہ نصف یا تین ربع مہر ہے تمام وکمال واجب الادا رہے گا،عورت کا معاف کرنا کچھ معتبر نہ ہوگا، خزانۃ المفتین وہندیہ میں ہے:
|
مریضۃ قالت لزوجھا ان مت من مرضی ھذا فمھری علیك صدقۃ اوفانت فی حل من مھری فماتت من ذٰلك المرض فقولھا باطل والمھر علی الزوج [1]۔ |
مریضہ بیوی نے خاوند کو کہا اگرمیں اس مرض میں فوت ہوجاؤں تو میرامہر تجھ پر صدقہ ہے،یا کہے"تومہرسے آزاد ہے" تووہ اس مرض میں فوت ہوگئی تو بیوی کا یہ قول باطل ہوگا اورمہر خاوند کے ذمہ لازم رہے گا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع