30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فتحرر مما تقرر ان العدل بین الابن والبنت فی حال الصحۃ عند الامام الثالث ھو التثلیث وعند الامام الثانی التنصیف وعلیہ الفتوی والکلام فی الافضیلۃ و الکل جائز والعدل بین بین اوبنات ھو التسویۃ بالاجماع ولایجوز العدول عنہ فی ابن لافی بنت اصلا لو قصد الاضرار اولا بالذات الا ان یکون فاسقا کما افادہ فی الخلاصۃ والبزازیۃ وخزانۃ المفتین و الہندیۃ وغیرہا وان قصد التفضیل فان الفضل دینی جائز ولم یکرہ والاکرہ لِاَوۡ لہ عــــــہ الی قصد الاضرار وہذا ماظہرلی والعلم بالحق عند عالم الغیوب و الاسرار، واﷲسبحنہ وتعالٰی اعلم۔ |
حالت میں بیٹی اور بیٹے کے درمیان عدل تیسرے امام(محمد) رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك تین حصے بنانے میں ہے،اور امام ثانی یعنی ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك برابر دینے میں ہے اوراسی پر فتوٰی ہے حالانکہ یہ کلام افضیلت میں ہے جبکہ جواز دونوں صورتوں میں ہے بالاجماع بیٹوں اور بیٹیوں میں عدل بہرحال برابر دینے میں ہے کسی لڑکے یا لڑکی کو ضرر رسانی قصدًا وبالذات جائز نہیں سوائے اس کے کہ وہ فاسق ہو جیسا کہ اس کا افادہ بزازیہ خزانۃ المفتین اورہندیہ وغیرہ کے بیان نے دیا ہے اوراگر فضیلت دینا چاہے تو کسی دینی فضیلت کی بناء پر جائزہے مکروہ نہیں ہے ورنہ مکروہ ہے کیونکہ یہ ضرر رسانی کی طرف رجوع ہوگا،مجھ پر یہ ظاہر ہواہے حقیقی علم غیوب واسرار کے عالم کے پاس ہے،واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۸۲: از پیلی بھیت مرسلہ مولانا مولوی وصی احمد صاحب غرہ رجب ۱۳۱۸ھ
ایك شخص نے اپنی جائداد مشترکہ برضا مندی اپنے اوراپنے شرکاء کے اپنے عزیزوں کو تقسیم کردی،یہ تقسیم بموجب شرع شریف کے صحیح ہے یانہیں اور بقدر تقسیم کے وہ جائداد واپس کرنا چاہے تو واپس ہونا اس کا نادرست ہے یانہیں؟
الجواب:
اگر شرکاء سے تقسیم کراکر اپنا حصہ جدا نہ کرالیا یا جن عزیزوں کو دی ان کا حصہ جدا تقسیم نہ کردیا اور وہ شے اس قابل تھی کہ بعد تقسیم لائق انتفاع رہتی جب تو یہ تقسیم سرے سے باطل ہے
عــــــہ:الاول ھوالرجوع(منجد)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع