30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یترا ای لی ان لاخلف بین ما عن الامامین الشیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما فان تفضیل احدالولدین لا تحقق لہ الابتنقیص الاخر والتنقیص اضرار اذ لیس المراد بہ ایصال سوءٍ الیہ فی دینہ اونفسہ او بدنہ او عرضہ اوملکہ ولاالتنقیص من حق لہ ثابت فانہ لاحق للورثۃ فی صحۃ المورث فلم یرد بہ الا حجبہ حجب نقصان اوحرمان وہذا لازم التفضیل لاانفکاك لہ عنہ،بیدان القصد اولا و بالذات قد یتعلق بتفضیل ھذا دون تنقیص ذلك وقد یکون بالعکس فانك اذا اعطیت احد ہما ازید لانہ اطوع لك وابربك فانما مطمح نظرك فی ہذا صلتہ بمقابلۃ ماوقع منہ لاتنقیص غیرہ وان لزمہ لزوما کلیا واذا کنت غضبان علی احدہما فاعطیت الاخرازید کیلا یصل الیہ الا القلیل فانما ملمح بصرك فی ہذا اضرارہ بما اساء الیك لاتفضیل غیرہ قصدا اولیا کما لا زیخفی،ثم التفضیل لابدلہ من حامل علیہ وداع الیہ فان العاقل |
اﷲ سے ہے،مجھ پر واضح ہوا کہ شیخین رحمہما اﷲ تعالٰی دونوں اماموں کے قول میں کوئی اختلاف نہیں،کیونکہ دو بیٹوں میں سے ایك کو زیادہ دینا دوسرے کو کم دینے کے بغیر متحقق نہیں اور کم دینا ہی ضرر دینا ہوا،کیونکہ یہاں دین یا بدن یاعزت یا ملك میں تکلیف دینا مراد نہیں ہے اورنہ اس کے لئے ثابت شدہ حق کو کم کرنا مرا دہے کیونکہ اولاد کا باپ کی صحت میں کوئی حق نہیں تو یہاں صرف ایك کا دوسرے کے لیے نقصان یا محرومی کا باعث بننا ہے اور یہ بات دوسرے پر فضیلت دینے کو لازم ہے،اس سے جدا نہیں ہوسکتی،ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کبھی مقصود بالذات ایك کو صرف فضیلت دینا ہوتاہے دوسرے کی تنقیص پیش نظر نہیں ہوتی۔اور کبھی معاملہ بالعکس ہوتاہے کیونکہ جب توایك کو اس لئے زیادہ دے کہ وہ تیرا زیادہ مطیع اور خدمت گار ہے تو اس میں تیرا مطمح نظر صرف اس کو صلہ دینا ہے دوسرے کی تنقیص مقصود نہیں ہوتی اگرچہ یہ لازم ضرور ہے اور تو جب ایك پر ناراض ہو کر دوسرے کو اس لئے زیادہ دے کہ پہلے کو کم ملے تو اس میں تیری نظر یہ ہے کہ اس کو نالائقی کی سزاملے دوسرے کو فضیلت مقصود بالذات نہیں ہوتی جیسا کہ مخفی نہیں ہے،پھر تفضیل کا کوئی باعث اور داعی ضرور ہوتاہے کیونکہ عاقل کا کوئی فعل غرض کے بغیر نہیں ہوتا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع