30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پوتے کی ملك ہوگیا اس کے مرنے کے بعد ایك ثلث زید کی بہو کا ہوا اور دو ثلث باغ زید کا،زید نے جو کاغذ داخل خارج میں صرف بہو کانام لکھا دیا یہ اگر دلیل ہبہ وتملیك بھی قرار دیں جب بھی معتبر وصحیح نہیں کہ ہبہ مشاع بے تقسیم باطل ہے۔در مختار میں ہے:
|
لاتتم بالقبض فیما یقسم ولووہبہ لشریکہ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قابل تقسیم چیز پر قبضہ دینے سے بھی ہبہ تام نہ ہوگا خواہ اس میں شرکت والے کو ہبہ دے واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۸۱: از شہر کنہ ۲۲ ذیعقدہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایك لڑکی اور تین لڑکے ہیں ان میں ایك لڑکا زید کا خدمت گزارزیادہ تر ہے اور دو لڑکے فراخی سے بسر کرتے ہیں تنگ دست نہیں ہیں اس صورت میں زید یہ چاہتاہے کہ میں اپنے خدمت گزار لڑکے کو نصف اپنی ملکیت کا دوں اور نصف بقیہ دونوں لڑکوں اور لڑکی کو بحصہ مساوی دے دوں۔یہ بلاحق تلفی کے جائز ہوگا یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ یہ لڑکا باپ کا خدمت گزار زیادہ ہے تو ان دو پر ایك طرح کا فضل دینی رکھتاہے اگر اور کوئی وجہ اس کے منافی نہ ہو تو ایسی صورت میں باتفاق روایات اس کو ترجیح دینے میں مضائقہ نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو،بزازیہ میں ہے:
|
لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کانا سواء لایفعلہ [2]۔ |
اگر اولاد میں سے بعض کو اس کی نیکی کی بناء پر زیادہ دینے میں خصوصیت برتے تو کوئی حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں تو پھر امتیاز نہ برتے۔(ت) |
ہندیہ میں ہے:
|
لووھب رجل شیئا لاولادہ فی الصحۃ و ارادہ تفضیل البعض علی البعض |
اگر کوئی شخص صحت وتندرستی میں اپنی اولاد کو ہبہ دے اور اس میں وہ بعض کو دوسروں پر فضیلت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع