30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بکر اگرچہ نابالغ تھا مگر زر مشترك کا ہبہ بے تقسیم نہیں ہوسکتا اور یہاں بے جدائی وتقسیم یکجائی طورپر مدیونوں کو دے دئے گئے کہ وہ روپے ان کی ملك میں داخل ہوگئے اور ہبہ باطل ہوکر بکر ومستحقان بکر کا کچھ حق نہ رہا،اور چار ہزار والے عقد میں ایك قول پر دوسرا نقص اور ہے کہ یہ حصہ زید کا زید کے دو بیٹوں کے نام بلا تقسیم لکھا گیا تو مشاع درمشاع ہوا،بہرحال ان روپوں میں بہو کا کچھ حق نہیں،فتاوٰی انقرویہ میں ہے:
|
فی المنتقٰی وہب نصف بیتہ لابنہ الصغیر لم یجز ما لم یقسمہ ویبین ماوہب لہ من فتاوٰی التمرتاشی فی اٰخر کتاب الھبۃ [1]۔ |
منتقٰی میں فتاوٰی تمر تاشی کی کتاب الھبۃ کے آخر سے ہے اگر اپنے نابالغ بیٹے کو اپنا نصف مکان ہبہ کیا تو جب تك تقسیم کرکے جدا نہ کردے جائز نہ ہوگا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
لو تصدق بدارہ علی ولدین لہ صغیرین اوکبیرین او احدہما صغیر والاٰخر کبیر لم یجزوکذا لو تصدق علیہما بکیس فیہ الف درہم وقبضاہ لم یجز،خزانۃ الاکمل فی الھبۃ عن المجرد [2]۔ |
اگر کسی نے دو نابالغ یا ایك یا دو بالغ یا ایك بالغ اور ایك نابالغ بیٹوں کو اپنا مکان مشترکہ طور پر ہبہ کیا تو جائز نہ ہوگا اور یونہی ان کو ایك تھیلی ہبہ کی جس میں ہزار درہم تھے اور دونوں کو قبضہ بھی دے دیا ہو تو جائز نہ ہوگا،یہ خزانۃ الاکمل کے ہبہ میں مجرد سے منقول ہے۔(ت) |
بلکہ جس قدر روپیہ زید نے ان ایام میں رہن میں بنام اجارہ پایا ہے زید پر فرض ہے کہ اسے اصل میں مجرا دے اگر کل آگیا تو اب ایك پیسہ لینا حرام ہے اور اگر کچھ باقی ہے تو اسی قدر زید کا حق رہا،اور اگر زید پر فرض ہے کہ اتنا مدیون کو واپس دے،اسی طرح دوسری جائداد جو رہن دخلی لی اس سے بھی اب تك جو وصول ہوا زید کے لئے خیر اسی میں ہے کہ اسے سب کو زراصل میں محسوب جانے،رہا باغ وہ اپنے نابالغ پوتے کے لئے خریدا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع