30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ومن اذانی فقد اذی اﷲ [1]۔ |
ایذادی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذا دی۔والعیاذ باللہ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۸۰: از فرید پور مرسلہ شیخ نبی بخش صاحب جمعدار ۲۲ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو دو بھائیوں نے اپنا مشترکہ روپیہ گیارہ سو ایك شخص کو قرض دیا اور اس کی ایك جائداد رہن دخلی لی دستاویز میں برادر زید نے بجائے زید،زید کے نابالغ بیٹے بکر کانام درج کرایا اور بعد رجسٹری دستاویز وہ کل روپیہ راہن کو دے دیا گیا بعدہ زمانہ نابالغی بکر میں ایك اور جائداد دونوں بھائیوں نے اپنے مشترکہ روپے سے رہن دخلی لی اور اس دستاویز میں بجائے عمرو اس کے بیٹے کا اور بجائے زید اس کے دو نابالغ بیٹوں بکر اور خالد کانام درج ہوا اور بعد رجسٹری کل زر قرض چار ہزار روپے راہن کو دے دئے یہ جائداد رہن دخلی لے کر خود مالك کو بطور اجارہ داری اور فصل بفصل زراجارہ یہ مرتہن پاتے رہے کئی برس کے بعد بکر نے ایك بیٹا نابالغ ولید اور ایك زوجہ چھوڑ کر انتقال کیا زید نے بعد انتقاال پسر ایك باغ اپنے روپے سے خریدا اور بیعنامہ بنام اپنے نابالغ پوتے ولید کو لکھوایا پھر ولید نے بحال نابالغی ماں اور دادا کو وارث چھوڑ کر انتقال کیا،زید نے اس باغ کے داخل خارج میں صرف اپنی بہو کا نام درج کرایا،اب وہ دعوٰی کرتی ہے کہ وہ دونوں روپے جن سے وہ جائدادیں رہن لیں ان میں سے زراسمی بکر اور یہ باغ میرا ہے کہ ان دستاویزوں میں بکر کانام لکھوادینے سے ان روپوں کی تملیك بکر کو ہوگئی اور اب بذریعہ دین مہر وہ میرے حق میں ہے اور اس باغ کے داخل خارج میں میرا نام درج کرانے سے یہ میری ملك ہوگیا،اس صور ت میں کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت واقعہ اگر یونہی ہے کہ وہ روپے زید وعمرو کے مشترك تھے اور یونہی یکجائی طور پر مدیون کو دئے گئے تو ان میں بہو کادعوٰی اصلا مسموع نہیں جبکہ وہ روپے زید کی ملك تھی تو بکر کے نام ان کا انتقال یونہی ہوسکتا ہے کہ زید بکر کو ہبہ کرکے مالك کردیتا دستاویز رہن دخلی میں اگر بکر کانام خود زید ہی لکھا تھا اور بالفرض اس سے تملیك وہ ہبہ سمجھا جاتا جب بھی یہ ہبہ جائز نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع