30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المدفوع الیہ وہذا اصح الوجوہ ففی شرح النظم الوہبانی لشیخ الاسلام عبد البر ان من دفع شیئا لیس بواجب فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستہبلکہ القابض اھ وقد صرحوا بان من ظن ان علیہ دینا فبان خلافہ یرجع بماادعی ولو کان قد استھبلکہ رجع ببدلہ [1] اھ۔ |
یہ حق ہے یہی تمام وجوہ میں بہتر ہے شیخ الاسلام عبدالبر کی شرح نظم وہبانی میں ہے کہ جس نے کوئی چیز دی حالانکہ اس پر اس کا دینا واجب نہ تھا تو واپس لینے کا حق ہے سوائے اس صورت کے کہ بطور ہبہ دی ہو اور قابض نے ہلاك کردی ہو اھ اور فقہاء نے تصریح فرمائی کہ جو اس گمان پر دے کہ اس پر یہ دیناواجب ہے اور پھر اس کا خلاف معلوم ہوا تو اپنے دئے ہوئے میں رجوع کرسکتاہے اوراگر لینے والے نے ہلاك کردی ہو تو اس کا بدل وصول کرے اھ(ت) |
ہاں اگر اس گمان سے نہ دیا بلکہ دیدہ دانستہ اپنی خوشی سے اپنا زیور اس کے عوض میں ہبہ کردیا اگرچہ یہ ہبہ اسی بنا پر واقع ہوا ہو کہ ایسے اوچھے کا احسان نہ رکھنا چاہئے تو اس صور ت میں مرید اس زیور کا مالك ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
|
(اتفقا)الواہب والموھوب لہ(علی الرجوع فی موضع لایصح)رجوعہ من المواضع السبعۃ السابقۃ(کالھبۃ لقرابتہ جاز)ھذا الاتفاق منہما،جوہرۃ [2]۔ |
ایسی صورتیں جن میں رجوع صحیح نہ ہو مذکورہ سات صورتوں میں سے کسی میں رجوع پر واہب اور موہوب لہ دونوں اتفاق کرلیں(مثلا قریبی ذی محرم کوہبہ)تویہ اتفاق جائزہے، جوہرہ(ت) |
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:
|
ویکون الرجوع فی العوض بالتراد وفی الہلاك برد البدل [3]۔ |
عوض میں رجوع واپس لینے سے ہوگا اور ہلاکت کی صورت میں بدل لینے سے ہوگا۔(ت) |
اب اسے اختیار ہوگا جو چاہے کرے۔
|
فانہ انما ھلکہ ملکہ بھبۃ |
کیونکہ اس نے ابتدائی طورپر ہبہ والی ملکیت کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع