30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لابنی [1]۔ |
میں نے اپنے بیٹے کے لئے قبول کی۔(ت) |
التجنیس والمزید پھر فتح القدیر پھر شامیہ میں ہے:
|
رجل خطب لابنہ الصغیر امرأۃ فلما اجتمعا للعقد قال اب المرأۃ لاب الزوج دادم بزنی ایں دختر رابہزار درم فقال اب الزوج پذیر فتم یجوز النکاح علی الاب و ان جری بینہما مقدمات النکاح للابن ھوالمختار لان الاب اضافہ الی نفسہ وھذا امر یجب ان یحتاط فیہ [2]۔ |
ایك شخص نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے ایك عورت سے منگنی کی،جب نکاح کی مجلس ہوئی تو عورت کے باپ نے لڑکے کے باپ کو کہا میں نے بیوی بناکر یہ لڑکی ہزار درہم کے بدلے میں دی،جواب میں لڑکے کے باپ نے کہا میں نے قبول کی، تویہ نکاح باپ سے ہوگا اگرچہ پہلے تمام مقدمات بیٹے کے نکاح کے لئے تھے،یہی مختار ہے کیونکہ لڑکے کے باپ نے قبولیت اپنی طرف منسوب کی،اورایسا معاملہ ہے جس میں احتیاط ضروری ہے۔(ت) |
یوہیں اگر دوسرے کے لئے کوئی چیز خریدی مگر ایجاب وقبول میں اس کی طرف اضافت نہ ہوئی شراء اسی عاقد پر نافذ ہوجائے گا اور یہی مالك مبیع قرار پائے گا جبکہ اس پر نفاذ کی گنجائش ہو،درمختارمیں ہے:
|
لواشتری لغیرہ نفذ علیہ الا اذا کان المشتری صبیا او محجورا علیہ ہذا اذا لم یضفہ الفضولی الی غیرہ فلو اضافہ بان قال بع ہذا العمل لفلان فقال البائع بعتہ لفلان توقف بزازیۃ وغیرھا [3] |
فضولی شخص نے کسی کے لئے کوئی چیز خریدی تو اگر یہ فضولی نابالغ یامحجور علیہ یعنی خود خریدوفروخت سے ممنوع نہ ہو تو یہ عقد خریداری اس کی اپنے لیے ہوگی بشرطیکہ اس نے خریداری غیر کی طرف منسوب نہ کی ہو اور اگر خریداری کو غیر کی طرف منسوب کیا مثلا یوں کہا کہ یہ چیز فلاں کے لئے فروخت کر تو بائع نے کہا میں نے یہ چیز فلاں کے لئے فروخت کی تو پھر یہ فلاں کی اجازت پر موقوف ہوگی،بزازیہ وغیرہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع