30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کے صاف لفظ یہ ہیں کہ مرید نے پیر سے کہا میں آپ کو یہ زیور اﷲ واسطے دیتاہوں آپ منظور فرمالیں آپ اﷲ واسطے یہی قبول فرمالیں،پیر نے باصرار منظور کرلیا،یہ صراحۃً پیر کو دیناہوا اور پیرہی اس کا مالك ہوگیا اور اس کا اپنے گھرمیں خرچ کردینا جائز ہوا اگرچہ وہ اور اس کے اہل اغنیاء ہی ہوں وہ اس میں کسی طرح خطاوار نہیں ٹھہر سکتا،بالفرض اگر اس وقت مرید کے دل میں یہی تھا کہ میں اجانب کے بانٹنے کو دیتاہوں اور پیر کو وکیل تقسیم کرتاہوں تاہم جبکہ اس نے صریح الفاظ ہبہ ایجاب کیا پیر سے اسی کی منظوری پر مصرہوا اس نے منظور کرلیا تو انعقاد ہبہ میں کوئی شك نہیں ہوسکتا عقود میں نظر معانی مدلولہ پر ہے نہ کہ مجرد خیالات باطنیہ پر،وجیز امام کردری کتاب الاجارہ فصل ثانی میں ہے:
|
اراداستیجار کرم اودار فدفع الذھب الی المالك ثم قال لہ گرو کردی ملکت ذا بکذا فقال کردم فہذا رہن لا اجارۃ لان المتعبر اللفظ لاالعزم [1]۔ |
ایك شخص انگور کے درخت یا مکان کرایہ پر حاصل کرنا چاہتاہے تو اس نے مالك کو دینار دے کر کہاتویہ گروی کردیا اس رقم کے عوض،تو مالك نے کہا میں نے گروی کردیا تو یہ رہن ہوگا اجارہ نہ ہوگا کیونکہ عقد میں الفاظ کا اعتبار ہے عزم کا اعتبار نہیں۔(ت) |
یہاں تك کہ اگر زید بیٹے کے لئے عمرو کی بیٹی مانگنے آیا عمرو نے کہا میں نے اپنی دختر نکاح میں دی،زید نے کہا میں نے قبول کی، زید سے نکاح ہوگیا،جبکہ اس سے نکاح ہوسکتا ہو کہ ایجاب وقبول میں پسر زید کا کوئی ذکر نہ آیا اگرچہ خیال یہی تھا کہ بیٹے کے لئے قبول کروں۔فتاوٰی ظہیریہ پھر ردالمحتار میں ہے:
|
لو قال ابوالصغیر لابی الصغیر زوجت ابنتی ولم یزد علیہ شیئا فقال ابوالصغیر قبلت یقع النکاح للاب ھوا لصحیح و یجب ان یحتاط فیہ فیقول قبلت |
نابالغہ کے باپ نے نابالغ کے والد کو کہا میں نے اپنی بیٹی نکاح کرکے دے دی،اس سے زائد کچھ نہ کہا،اس نے جواب میں نابالغ لڑکے کے والد نے کہا میں نے قبول کیا،تو یہ نکاح نابالغ کے والد سے ہوگا،یہی صحیح ہے،لہذا اس معاملہ میں احتیاط ضروری ہے اسے کہنا چاہئے تھا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع