30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۶)اگر بالفرض مرشد کو جناب رسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہیں فرمایا اپنے طمع نفسانی کے واسطے جھوٹ کہہ دیا اور مرید وہ زیور اﷲ واسطے دے چکا آیا اس صورت میں وہ مرید اگر زیور واپس لے تو درست ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
پیرو مرید کے جو کمالات سوال میں مذکور ان میں کہیں نہیں کہ پیرنے اس سے کہا ہو کہ وہ چیز میں تجھ سے اجنبی مساکین پر تقسیم کرنے کو لیتاہوں یا اجانب پر تقسیم کا مجھے حکم ہوا ہے نہ مرید کے کلام میں کہیں اس کی تصریح پیر نے اتنا کہا کہ اﷲ کے واسطے خرچ کرائی جائے،یہ پیرو متعلقین پیرواجانب سب کو شامل ہے،پیر کی خدمت جو کچھ پیر ہونے کے سبب کی جائے وہ بھی اﷲ ہی کے لئے خرچ ہے،صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم جو چیزیں بارگاہ عرش جاہ حضور پرنور سلطان دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں نذر حاضر لاتے کیا اس سے بہتر کوئی خرچ اﷲ عزوجل کے لئے متصور ہے حالانکہ حضور غنی مغنی اغنی العلمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے غلامان آزاد شدہ تك اصلا محل صدقہ نہیں بخلاف اغنیائے دنیا کہ من وجہ محل صدقہ ہیں۔صحیحین کی حدیث تصدق اللیلۃ علی غنی [1](رات کے وقت غنی پر صدقہ کیا گیا۔ت)مشہور ومعروف ہے،ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
|
الصدقۃ تکون علی الاغنیاء ایضا وان کانت مجاز اعن الھبۃ عند بعضہم [2]۔ |
صدقہ کبھی غنی کے لئے بھی ہوتا اگرچہ بعض کے نزدیك وہ ہبہ سے مجاز ہوتا۔(ت) |
بحرالرائق میں ذخیرہ سے ہے:
|
فی التصدق علی الغنی نوع قربۃ دون قربۃ الفقیر [3]۔ |
غنی پر صدقہ قربت ہے جو کہ فقیر پر صدقہ سے قربت میں کم ہے۔(ت) |
یہاں تك تو لفظ عام تھے آگے چیز دیتے وقت جو ایجاب وقبول پیرو ومرید میں واقع ہوئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع