30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باپ کا تھا یہ اس کاکام کرتا اور اس کے ساتھ رہتا تھا،اب زید کے وہ الفاظ قابل لحاظ ہیں جن سے اس نے اس پسر کو کل اختیارات دے کر مالك کردیا اگر خود ان الفاظ یادیگر قرائن واضحہ سے تملیك کل مال واسباب تجارت مفہوم تھی تو ضرور یہی بیٹا اس تمام مال کا مالك ہوگیا کہ ہبہ پایا گیا اور قبضہ خود ظاہر،اور اگر تصرفات تاجرانہ کامالك کر دینا تھا کہ سب سیاہ وسپید تیرے اختیار ہے خرید وفروخت لین دین کا تو مالك ہے اس سے زیادہ اصل مالك کی تملیك پر کوئی دلیل نہ تھی تو اس قدر سے صرف وکالت حاصل ہوگی مال کی ملك نہ ہوگی۔
|
فی ردالمحتار عن حاشیۃ الاشباہ للعلامۃ بیری زادہ عن خزانۃ الفتاوٰی اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الا بن یکون للاب الااذا دلت دلالۃ التملیك اھ(قال الشامی)قلت فقد افادان التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك کمن دفع لفقیر شیئا وقبضہ ولم یتلفظ واحد منہما بشیئ وکذا یقع فی الہدیۃ ونحوہا فاحفظہ ومثلہ ما یدفعہ لزوجتہ اوغیرہا[1]. اھ |
ردالمحتار میں الاشباہ کے حاشیہ علامہ بیری زادہ سے بحوالہ خزانۃ الفتاوٰی منقول ہے جب بیٹے کو مال دیا تو بیٹے نے اس میں تصرف کرلیا تومال باپ کا ہوگا،ہاں اگر وہاں بیٹے کے لئے تملیك پر کوئی قرینہ ہو تو بیٹے کا ہوگا اھ علامہ شامی نے فرمایا میں کہتاہوں کہ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ہبہ میں ایجاب قبول شرط نہیں بلکہ تملیك پر دال قرائن کافی ہیں،جیسے کہ کوئی شخص فقیر کو کوئی چیز دے اور فقیر قبضہ کرلے،اور دونوں میں سے کوئی بھی کوئی بات نہ کرے ہدیہ وغیرہ میں بھی یہی حکم ہے،اس کو محفوظ کرلو،اور اسی کی مثل ہے جب اپنی بیوی وغیرہ کو کچھ دے دے اھ(ت) |
اس تقدیر پر دوسرا بیٹا بھی اس مال میں برابر کا حقدار ہے اس پسر نے جو کچھ تجہیز وتکفین بقدر مسنون میں صرف کیا اتنا ترکہ سے لے سکتاہے،
|
لکونہ وارثا والوارث لایجعل متبرعا فیہ کما فی الدر المختار وغیرہ من الاسفار،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
اس کے وارث ہونے کی بناء پر کیونکہ اس میں وارث کے لئے تبرع نہیں شمار ہوتاجیسا کہ درمختاروغیرہ کتب میں ہے،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع