30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ہبہ بعد قبضہ تمام ہوجاتاہے شے موہوب ملك واہب سے نکل کر ملك موہوب لہ میں داخل ہوجاتی ہے واہب ووارثان واہب کی ملك و وراثت اس میں نہیں رہتی خصوصا جبکہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم مثلا بیٹا،بھائی،بھتیجا ہو خصوصا جبکہ شیئ موہوب موہوب لہ نے دوسرے کے نام منتقل کردی خصوصا جبکہ واہب کا انتقال ہوچکا کہ ان میں سے ہر صورت ہبہ کولازم کردیتی ہے جس کے سبب اس میں رجوع کا بھی امکان نہیں رہتا نہ کہ جہاں اتنے وجوہ جمع ہوں،درمختار میں ہے:
|
یمنع الرجوع فیہا موت احد المتعاقدین بعد التسلیم وخروج الھبۃ من الملك الموھوب لہ و قرابۃ ذی رحم محرم [1] اھ ملتقطا۔ |
ہبہ میں رجوع سے فریقین میں سے کسی کی موت مانع ہے بشرطیکہ ہبہ پر قبضہ دے دیا ہو اور موہوب لہ کی ملکیت سے موہوب کا خارج ہوجانا اور قرابت ذی رحم محرم بھی رجوع سے مانع ہے اھ ملخصا۔(ت) |
پس صورت مسئولہ میں اس مکان وجائداد پر وارثان زید کا دعوٰی محض باطل وناقابل سماعت ہے خصوصا بعد اس کے کہ سالہا سال تصرفات انتقال دیکھتے اور سکوت کرتے رہے کما نصوا علیہ وبیناہ فی فتاوٰنا(جیساکہ اس پر نص کی گئی ہے اور اسے ہم نے اپنے فتوٰی میں بیان کیا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۸: ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو بیٹے ایك زید سے علیحدہ کاروبار کرتا تھا اور ایك زید کے ساتھ بشرکت جب زید ضعیف ہوا کل کام اور اسباب تجارت اس شریك بیٹے کو حوالہ کیا اور کل اختیارات نیك وبد دے کر مالك کردیا اور تاحیات زید اس کا خورد ونوش اسی بیٹے کے متعلق رہا اور اس نے تجہیز وتکفین کی اس صورت میں بیٹے کا اس مال میں حق ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
سائل خود مظہر کہ اس بیٹے کی شرکت ایسی نہ تھی کہ کچھ مال یا روپیہ اس کا ہو مال سب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع