30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العقد ولااجازۃ لاحقۃ بعدہ اجاب لایقضی علیہ لہم بحصتہ منہا لان المنافع لاتتقوم الابالعقد وھو صادر منہ بلا وکالۃ سابقۃ ولا اجازۃ لاحقۃ فملکہا الشریك العاقد لکن ملکہ فی غیر ملکہ ملك خبیث فیجب علیہ التصدق بہ اودفعہ لشرکائہ خروجا من الاثم والثانی افضل لخروجہ من الخلاف ایضا واﷲ تعالٰی اعلم[1] اھ قلت وھہنا مزلۃ تنبہت علیہا بتوفیق المولی تبارك وتعالٰی فیما علقت علی العقود الدریۃ من کتاب الشرکۃ و ﷲ الحمد والمنۃ۔ |
کارروائی نہ وکالت سابقہ سے تھی اور نہ ہی اجازت لاحقہ سے ہوئی انہوں نے جواب دیا کہ قاضی کو یہ اختیار نہیں کیونکہ اجارہ کے منافع صرف عقد کے ذریعہ ہی قیمتی بنتے ہیں جبکہ عقد اس کا ہے اور بغیر وکالت سابقہ اور اجازت لاحقہ کے ہوا ہے تو ان منافع کا مالك صرف عقد کرنے والا ہی بنے گا تاہم یہ اس کی ملك خبیث ہوگی تو اس پر لازم ہے کہ اس اجرت کو صدقہ کرے یا پھر اپنے شرکاء حضرات کو دے دے،آخری صورت بہتر ہے تاکہ خلاف سے بھی بچ جائے،واﷲ تعالٰی اعلم۔ میں کہتاہوں یہاں ایك خطاء ہے اس پر میں نے اﷲ تعالٰی کی توفیق سے عقود الدریہ پر اپنے حاشیہ میں تنبیہ کردی ہے۔(ت) |
پھر یہ حکم وجوب بھی سلیمہ زندہ پر اُس آمدنی کے باب میں ہے جو اس نے خود حاصل کی اور جس قدر زید حاصل کرگیا اس کے بعد اس کے وارثوں پر نہ دیگر شرکاء کو بقدر حصص واپس دینا لازم رہا نہ تصدق کرنا مگر یہ کہ زید اس کی وصیت کر گیا ہو،
|
فان کل دین علی المیت لامطالب بہ من جہۃ العباد لا یلزم الورثۃ اداؤہ الابالایصاء کما نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ من الاسفار ھکذا ینبغی ان یفہم ہذا المقام والحمدﷲ ولی الانعام،واﷲ |
کیونکہ میت کے ذمہ ایسا دین جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہ ہو اس کا ورثاء پر اداکرنا میت کی وصیت کے بغیر لازم نہیں ہے جیسا کہ اس پر درمختار وغیرہ میں نص ہے،اس مقام کو یوں سمجھنا چاہئے،اور سب تعریفیں انعام کے مالك اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں،واﷲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع