30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مودعہ لان قبض الولی ینوب عنہ [1]۔ |
کیونکہ ولی کا قبضہ نابالغ کے قائم مقام ہے۔(ت) |
اسی طرح وہ عمارت کہ اس زمین پر خالد نے اپنے روپے سے بنائی اگر ظاہر کردیا تھا کہ یہ عمارت میں اپنے پسر نابالغ زید کے لئے بناتاہوں یا بننے کے بعد کہہ دیا کہ یہ عمارت میں نے اس کے لئے بنائی یا بنانے کے بعد مکان کا عقد اجارہ زید کی طرف سے کیا کرایہ دار سے کہا میں نے یہ مکان اپنے پسرزید کا تجھے اتنے کرایہ پر دیا یا کرایہ نامہ زید کے نام لکھوا یا کہ یہ بھی عرفًا مرتفع تملیك اور قرینہ کافی ہے یا زید سمجھ وال تھا اس نے درخواست کی کہ اس زمین میں میرا مکان بنادو خالد نے قبول کیا اور اس بنا پر بنایا غرض کسی طرح دلیل تملیك ظاہر ہوئی تو وہ عمارت بھی ملك زید ہوگئی اور سارا مکان اسی کا قرار پایا۔
|
فی ردالمحتار التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك [2] الخ وفی جامع الصغار للاستروشنی المعتبر فی الباب التعارف [3]۔ |
ردالمحتار میں ہے کہ ہبہ میں ایجاب وقبول ضروری نہیں بلکہ اس کی تملیك پر دال قرائن ہی کافی ہیں۔الخ،اور جامع الصغار میں ہے اس باب میں تعارف معتبر ہے۔(ت) |
ہاں اگر کوئی دلیل تملیك نہ پائی گئی خالد نے اس کا زید کے لئے ہونا اصلا ظاہر نہ کیا تو نفس عمارت مالك خالد پررہی کہ اپنے بچہ کے لئے ہبہ بھی صرف نیت سے تمام نہیں ہوتا جب تك اسے ظاہر نہ کرے،نہ بے اظہار نیت پر علم کا کوئی ذریعہ ہے،
|
فی ردالمحتار تحت قول الدرالمار"تتم بالعقد"ھذا اذا اعلمہ اواشہد علیہ والاشہاد للتحرز عن الجحود بعد موتہ والاعلام لازم لانہ بمنزلۃ القبض بزازیۃ [4]۔ |
درمختار کے مذکور قول کے تحت ردالمحتار میں ہے کہ عقد کے ساتھ تام ہوجاتا ہے یہ اس وقت جبکہ ولی اس کوبتادے یا گواہ بنالے اور گواہی اس لئے تاکہ اس کی موت کے بعد انکار نہ ہوسکے اور اطلاع دینا ضروری ہے کیونکہ یہ بمنزلہ قبضہ کے ہے، بزازیہ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع