30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ ہندہ کے نام ہبہ کرچکا تھا خود اس طرح پرقابض رہا جیسا کہ وہ تحریر ہبہ نامہ کے قبل تھا،خالد کے انتقال کے بعد سے زید کا قبضہ اس مکان پر جو اس کے نام سے اس کے پدر خالد نے خریدا تھا شروع ہوا خالد کی حیات میں گو زید بالغ تھا نوکر سرکار تھا اور صاحب اولا دتھا مگر اس کا قبضہ اس مکان پر نہ تھا زید جب تك زندہ رہا اس مکان کا کرایہ تحصیل کرتا رہا اس کی مرمت بھی کرتا تھا اور دو بار اس کو رہن بھی رکھا تھا اس کی بیوہ سلیمہ بعد زید کے انتقال کے اسی طور سے جیسا کہ اس کا شوہر تھا برابر اب تك قابض ہے،اب وارثان خالد وہندہ میں نزاع درپیش ہے موافق شرع شریف مکان مذکور زید کا ہے یاخالد کا،تاایں دم جائداد خالد وہندہ کی تقسیم نہیں ہوئی ہے اور جو صورت زید وسلیمہ کے وقت تھی اس وقت تك قائم ہے کوئی تعمیر جدید نہیں ہوئی اگر مکان مذکور زید کا قرار نہ پایا تو جوآمدنی اس کو اور اس کی بیوی سلیمہ کو اس مکان سے آج تك ہوئی ہے واپس کی جائے گی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ زمین کہ خالد نے اپنے پسر نابالغ زید کے نام خریدی فورا ملك زید ہوگئی،تاحیات خالد اس پر قبضہ زید نہ ہونا کچھ مضر نہیں کہ باپ جو چیز اپنے نابالغ بچہ کو ہبہ کرے اس میں موہوب لہ کو قبضہ دینا شرط نہیں باپ ہی کا قبضہ اس کا قبضہ قرار پاتاہے۔
|
فی ردالمحتار عن المنح عن الولوالجیۃ ان کان الاب اشتری لہا فی صغرھا وذلك فی صحتہ فلا سبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ [1]۔ |
ردالمحتار میں منح سے انہوں نے ولوالجیہ سے نقل فرمایا کہ اگر باپ نے بالغہ بیٹی کے لئے کوئی چیز اپنی صحت میں خریدی تو ورثاء کا اس پر کوئی حق نہیں ہے اور وہ خاص اس بیٹی کی ہوگی،(ت) |
درمختار میں ہے:
|
ھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ وھو کل من یعولہ فدخل الاخ والعم عند عدم الاب لو فی عیالہم تتم بالعقد لو الموھوب معلوما وکان فی یدہ اوید |
نابالغ کا ولی وہ ہے جو نابالغ کو اپنے عیال میں داخل کرے خواہ باپ کی عدم موجودگی میں بھائی ہو یا چچا ہو،تو اس کا اس نابالغ کو ہبہ عقد سے ہی تام ہوجاتا ہے جب موہوب چیز معلوم اور ولی کے قبضہ میں ہو یا اس نے کسی کے پاس امانت رکھی ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع