30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایستلزم الاقباض فلا یکون اقرار بحصول الملك للموہوب لہ ھذا ھو الفرق بین الاقرارین لامازعم ان التملیك لایحتاج الی القبض ولو لا ذکرہ من الدلیل لِاَیْقَنَّا ان ھذا النقل والفتوٰی مکذوب علی المشائخ ولکن باستدلالہ تبین ان الخطأ فی الفہم وقد قدمنا نصوصا قاضیۃ بان التملیك ھٰھنا ھوالھبۃ وقد اعترف بہ ھٰذا الناقل فی صدر کلامہ ان التملیك یکون فی معنی الھبۃ ویتم بالقبض فاذا کان تمامہ بالقبض فکیف یجوز یدون التسلیم ثم العجب اشد العجب ان الاختلاف کان فی انہ لو قال ملکتك ھذا الشیئ ھل یکون ھبۃ ام لایصح اصلا لان التملیك اعم کما قد منا من ردالمحتار والاٰن جاءتنا الفتوی بانہ صحیح مطلقا حتی بلاقبض ھل ھذا الاعجب عجاب،وقد اسمحناك نص التتمہ وجامع الفصولین والخیر الرملی و
|
تملیك کا لفظ کہا یہ تو اقرار قبضہ کو مستلز م نہیں کیونکہ واہب کی طرف سے ہبہ کے صدور کو یہ لازم نہیں تو ہبہ کے اقرار سے موہوب لہ کے لئے ملکیت ثابت نہ ہوگی،تملیك اور ہبہ کے اقراروں میں یہ فرق ہے نہ یہ کہ تملیك میں قبضہ کی ضرورت نہیں جیسے اس نے گمان کرلیا،اگر یہ اس دلیل کو ذکر نہ کرتا تو ہم یقین کرلیتے کہ نقل اور فتوٰی مشائخ کی طرف غلط منسوب ہے لیکن مسئلہ اقرار سے اس کے استدلال نے واضح کردیا کہ خطأ اس کے فہم کی ہے جبکہ نقل اور فتوٰی صحیح ہے حالانکہ ہم پہلے نصوص کے ذریعہ واضح کرچکے ہیں کہ یہاں تملیك سے مرادہ ہبہ ہے جبکہ یہ ناقل بھی اپنے کلام کی ابتداء میں اعتراف کرچکا ہے کہ تملیك ہبہ کے معنی میں ہوتی ہے اور وہ قبضہ سے تام ہوتی ہے تو جب یہ قبضہ سے تام ہوتی ہے تو پھر تسلیم کے بغیر کیسے جائز ہوگی،پھر انتہائی تعجب کی بات یہ ہے کہ اختلاف یہ بیان کیا کہ اگر کوئی یوں کہے"میں نے تجھے اس چیز کا مالك بنایا"تو یہ ہبہ ہوگا یا سرے سے کلام صحیح نہ ہوگا اور ہبہ نہ ہوگا کیونکہ تملیك ہبہ سے عام ہے جیسا کہ ہم ردالمحتار سے بھی ثابت کرچکے ہیں تو اب انہوں نے فتوٰی ظاہر کردیا کہ یہ مطلقا صحیح ہے خواہ قبضہ بھی نہ ہو،تویہ عجائب سے عجیب پر ہے، ہم نے آپ کو تتمہ کی نص اور جامع الفصولین،خیر الدین رملی اور عقود الدریہ سے بتایا کہ وہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع