30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الفتاح [1] انتہی،فاقول:نقل مجہول لامعقول ولا مقبول اما لجہل فلان المفتاح لیس من الکتب المتداولۃ ولاالشہیرۃ و لاعلم من ھو مصنفہ وما درجتہ فی کتب المذھب،واما انہ غیرمعقول فلان التملیك حالا اماللعین اوللمنافع وکل امابعوض اومجانا ھذا تقسم حاصر عقلی لاامکان لخروج قسم عنہ ومعلوم بداھۃ ان ھذاالشیئ الذی لیس تملیك المنافع وتملیك العین بعوض فاذن لیس الاتملیك العین حالا مجانا وما ھوا الا الھبۃ وفسرت فی المتون وقال قاضی زادہ فی تنائج الافکار الھبۃ فی الشریعۃ تملیك المال بلاعوض کذا فی عامۃ الشروح بل المتون [2]،وما عہد من الشرع المطہر ما ھو عقد یکون تملیك العین فی الحال بلاعوض ولا یکون ھبۃ ولوکان لوجب ان یعقد لہ کتاب او باب او فصل اواقل شیئ فی کتب المذہب کما عقدت الکتب البیع و الھبۃ والعاریۃ والاجارۃ |
یوں ہے اھ،فاقول:(تومیں کہتاہوں۔ت)یہ نقل مجہول، غیر مقبول اور غیرمعقول ہے۔مجہول اسی لئے کہ مفتاح مشہور اور متداول کتب میں نہیں ہے اور یہ معلوم نہیں کہ اس کا مصنف کون ہے اور کتب مذہب میں اس کا کیا مقام ہے غیر معقول اسی لئے کہ مذکورہ تملیك عین چیز کی ہوگی یامنافع کی ہوگی پھر ہر صورت عوض کے بدلے یا بلاعوض ہوگی یہ تقسیم عقلی طور پر چارصورتوں کوحاصر ہے اور اس سے خارج کسی قسم کا احتمال نہیں ہے اور بداہۃ معلوم ہے کہ یہ چیز جو منافع اور عین چیز کی تملیك بالعوض نہیں تو لامحالہ پھر صرف تملیك العین مفت میں ہوگی تو اسی کانام ہبہ ہے اور متون میں اسی کی یہی تفسیر کی گئی ہے۔قاضی زادہ نے نتائج الافکار میں فرمایا:شریعت میں ہبہ مال کی بلاعوض تملیك کو کہتے ہیں۔ یونہی عام شروح میں مذکور ہے بلکہ تمام متون میں ہے، شرع شریف سے کوئی ایسا عقد معلوم نہیں ہوا جس میں موقعہ پر بلاعوض عین چیز کا مالك بنانا ہو اور وہ ہبہ نہ ہوگا اگر کوئی اور چیز ہوتی تو کتب فقہ میں اس کے لئے کوئی کتاب، باب یا فصل یا اور کوئی اس سے کم عنوان ضرور قائم کیا جاتا جیسا کہ کتب میں بیع،ہبہ،عاریہ اور اجارہ وغیرہ کے لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع