30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ کرے گا اور سب کے نزدیك وہ بات بدلنے والا ٹھہرے گاا تو اس کے ہبہ ہونے میں کوئی شك نہیں تملیك زبانی میں مدار کا قرینہ پر ہے اگر کوئی قرینہ قائم ہو جو معنی ہبہ سے ابا کرے تو اسے ہبہ نہ ٹھہرائیں گے اور دستاویز تملیك نامہ قطعا ہبہ اور جو عقد ہبہ ٹھہرے گا تمام احکام ہبہ متعلقات شیوع وقبضہ ومرض وغیرہ سب بدستور اس میں جاری ہوں گے فان العبرۃ للمعنی کما فی الہدایۃ وغیرھا(کیونکہ معنی کا اعتبار ہوتاہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ت)یہ ہے جو کلمات علماء کرام سے منقح ہوا اور وہ جو زعم کیا جاتاہے کہ تملیك کوئی عقد خاص جدا گانہ ہبہ سے مبائن اور اس کے احکام احکام ہبہ سے علیحدہ ہیں اصلا قابل تسلیم نہیں کہ قواعد شرع مطہرہ اس کی مساعدت ہر گز نہیں کرتے،
|
وما وقع ھٰھنا من العلامۃ ط رحمہ اﷲ تعالٰی حیث قال قال السید الحموی اعلم ان التملیك یکون فی معنی الھبۃ ویتم بالقبض واذا عری عن القبض و التسلیم اختلف العلماء فیہ فقیل یجوز وقیل لا یجوز قیاسا علی الھبۃ واکثرالمشائخ علی انہ یجوز بدون التسلیم وانہ غیر الھبۃ لان التملیك والھبۃ شیئان اسما وحکما اما الاسم فظاھر واما حکما فلان لو وھب الثمار علی رؤس الاشجار لاتجوز ولواقر بالتملیك یجوز فثبت ان التملیك یصح بدون التسلیم وانہ غیر الھبۃ وعلیہ الفتوی وعمل الناس و موت المقر بمنزلۃ التسلیم بالاتفاق کذا |
اس مقام پر علامہ طحطاوی رحمہ اﷲ تعالٰی سے جو وقوع پذیر ہوا جہاں انہوں نے فرمایا کہ سید حموی نے فرمایا:جاننا چاہئے کہ تملیك ہبہ کے معنٰی میں ہوتی ہے اور قبضہ سے تام ہوتی ہے اور جب یہ قبضہ اور تسلیم سے خالی ہو تو پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے بعض نے کہا جائز ہے اور بعض نے کہا ناجائز ہے ہبہ پر قیاس کی وجہ سے اور اکثر مشائخ اس پر ہیں کہ بغیر قبضہ دئیے جائز ہے اور تملیك ہبہ سے جدا چیز ہے کیونکہ تملیك اور ہبہ دو علیحدہ چیزیں حکم اور نام کے اعتبار سے نام کے لحاظ سے ظاہر ہے حکم کے اعتبار سے اس لئے کہ اگر کوئی درختوں پر پھل کو ہبہ کرے تو ناجائز ہے اوراگر تملیك کے طور پر کسی کے لئے اقرار کرے تو جائز ہے تو ثابت ہوا کہ تملیك بغیر قبضہ دئے صحیح ہے اور ہبہ کاغیر ہے اور اسی پر فتوٰی ہے اور لوگوں کا عمل بھی اور اقرار کرنے والے کی موت بمنزلہ قبضہ ہے اھ مفتاح میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع