30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ممانصہ قال المؤلف کتبت علی صورۃ دعوی ماصورتہ حیث بین اقرارہ انہ بجھۃ التملیك فدعوی التملیك لاتسمع لما قالہ الخیرا لرملی رحمہ اﷲ تعالٰی ناقلا عن جامع الفصولین فی خلل المحاضر والسجلات برمز التتمۃ عرض علی محضر کتب فیہ ملکہ تملیکا صحیحا ولم یبین انہ ملکہ بعوض اوبلا عوض قال اجبت انہ لاتصح الدعوی ثم رمز لشروط عــــــہ الحاکم اکتفی بہ فی مثل ھذا بقولہ وھب لہ ھبۃ صحیحۃ و قبضہا ولکن ماافاد فی التتمۃ اجود واقرب الی الاحتیاط [1] اھ فان ھذا نقل واخبار لا عقد وایجاب کما لایخفی ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق۔ |
ہے جس کی عبارت یہ ہیے مؤلف نے فرمایا میں نے دعوٰی کی صورت پر لکھا،کہ صورت کیا ہے جہاں اس نے اپنا اقرار کیا ہے کہ یہ تملیك کے طور پر ہے اگر یہی ہے تو تملیك کے دعوٰی کی مانند یہ قابل سماعت نہیں ہے اس کی وجہ وہ جوخیر الدین رملی رحمہ اﷲ تعالٰی نے جامع الفصولین کی ماحضرات اور سجلات میں خلل والی بحث سے تتمہ کے عنوان میں نقل کیا ہے کہ مجھ پر ایك محضر نامہ پیش کیا گیا جس میں لکھا تھا اس کو صحیح تملیك کے ساتھ مالك بنایا اور یہ نہ بیان کیا عوض کے ساتھ یا بلاعوض مالك بنایا تو فرماتے ہیں میں نے جواب دیا کہ دعوٰی صحیح نہیں ہے۔پھر انہوں نے شروط الحاکم میں صرف اس صورت پر اکتفا فرمایا،جیسے کوئی لکھے اس کو صحیح ہبہ کرکے دے دیا،لیکن انہوں نے تمتہ میں جو فائدہ دیا وہ بہتر اور احتیاط سے اقرب ہے اھ کیونکہ یہ حکایت اور اخبار ہیں۔ عقد اور ایجاب نہیں ہیں۔جیسا کہ مخفی نہیں۔تحقیق یوں چاہئے، اﷲ تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے۔(ت) |
یہ ساری بحث تملیك زبانی ہے دستاویز تملیك نامہ تو قطعا تمام اقوال پر ہبہ نامہ ہے جس میں کسی طرح نزاع کا احتمال نہیں کہ بالیقین ا س کا لکھنے والا تملیك عین بلاعوض کا قصد کرتاہے اور بالتعین یہی اس سے سمجھا جاتاہے ووصیت وغیرھا احتمالات کی بُو بھی نہیں آتی یہاں تك کہ اگر کوئی شخص ایسی دستاویز لکھ کر کہے میں نے تو اس سے عقد بیع کاقصد کیا ہے تو کوئی اس کی تصدیق
عــــــہ: اسم کتاب ۱۲ عبدالمنان۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع