30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیکن محل غور اس قدر ہے کہ مسئلہ خاص جزء میں ظاہرا کلمات علماء مختلف سے نظر آتے ہیں بعض نے وہی تصریح فرمائی کہ عقد تملیك عین ہبہ ہے اور بعض بنظر عموم لفظ تعیین ہبہ کے لئے قرینہ کی حاجت اور در صورت انعدام قرینہ تملیك کو ناجائز وغیر صحیح مانتے ہیں،
|
فی ردالمحتار لو قال ملکتك ھذا لثوب مثلا فان قامت قرینۃ علی الھبۃ صحت والا فلا لان التملیك اعم منہا لصدقہ علی المبیع والوصیۃ والا جارۃ وغیرھا انظر ما کتبناہ فی اٰخرالھبۃ الحامدیۃ وفی الاکازروفی انہا ھبۃ [1] اھ |
ردالمحتار میں ہے اگر کہا میں نے تجھے اس کپڑے کا مالك بنایا، مثلا اگر ہبہ پر قرینہ ہو تو صحیح ہے ورنہ نہیں،کیونکہ تملیك ہبہ سے عام ہے اس لئے کہ تملیك مبیع،وصیت،اجارہ وغیرہ پر بھی صادق آتی ہے۔ہم نے حامدیہ میں ہبہ کے آخر میں جو لکھا ہے اسے دیکھو اور زرونی میں ہے کہ یہ ہبہ ہے اھ(ت) |
فقیر کہتاہے غفراﷲ تعالٰی لہ،بتصریح علماء مَہما اَمکنَ دفع تخالف وتحصیل توفیق لازم اور وجہ تطبیق کی تقریر علی الخصوص جب بے تکلف ہو متعین ومتحتم،اصل وضع میں تملیك کا عموم کسے نہیں معلوم اور بے قیام قرینہ احدالافراد کی تعیین کسی کا قول نہیں اور جس طرح یہ باتیں متفق علیہ ہی یونہی یہ بھی متقین کہ خاص جہت لفظ سے قرینہ کا ناشی ہونا ضروری نہیں بلکہ قرینہ حالیہ بھی کافی ہے۔
|
وقد سمعت ماقال العلامۃ البیری و المحقق الشامی رحمہما اﷲ تعالٰی۔ |
تو نے علامہ بیری اور محقق شامی رحمہما اﷲ تعالٰی کا کلام سن لیا۔ (ت) |
اب جو ہم دیکھتے ہیں تو مقام اخبار میں بیشك لفظ تملیك بیع وہبہ ووصیت وغیرہا سب جگہ بولا جاتا ہے عام ازیں کہ وہ اخبار اپنے نفس سے ہو یا غیر سے،مثلا زید نے ایك مکان عمرو کے ہاتھ بیع کیا تو اب وہ کہ کہتاہے کہ میں نے فلاں مکان عمرو کی ملك کردیا بکرو خالد کہہ سکتے ہیں زید نے خود کو اپنے مکان کا مالك کیا عمرو کہہ سکتاہے کہ مکان زید بتملیك زید میری ملك میں آیا اور سامع ان لفظوں سے ہر گز سوا نقل ملك کے کچھ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ امر بعوض واقع ہوا یا بلاعوض،اور مکان ملك عمرو میں بیعا آیا یاہبۃ،عموم تملیك کا یہ صاف اثرواضح ہے مگر خاص انشائے عقد ایجاب وقبول کے وقت جب ان لفظوں پر اقتصار ہوگا یعنی میں نے تجھے فلاں شے کا مالك کیا عمرو کہے میں نے قبول کیا،تو بیشك متفاہم عرف میں اس سے ہبہ ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع