30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی خزانۃ الفتاوٰی اذا دفع لابنہ مالا فتصرف فیہ الا بن یکون للاب الا ان دلت دلالۃ التملیك [1]۔ |
خزانۃ الفتاوٰی میں ہے اگر کسی نے بیٹے کو مال دیا اور بیٹے نے اس میں تصرف کیا تو یہ مال باپ کا ہوگا الایہ کہ کوئی دلالت تملیك پر پائی جائے۔(ت) |
محقق شامی فرماتے ہیں:
|
قلت فقد اذادان التلفظ بالایجاب و القبول لا یشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیک[2] اھ۔ |
میں کہتاہوں کہ اس عبارت نے فائدہ دیا کہ اس میں ایجاب وقبول شر ط نہیں بلکہ تملیك پر دلالت کرنے والے قرائن کافی ہوتے ہیں۔(ت) |
فقیہ علامہ نوازل میں تصریح فرماتے ہیں جو لفظ تملیك رقبہ پر دال وہہبہ ہے۔
|
فی الدرالمختار اللفظ ان انبأ عن تملك الرقبۃ فھبۃ اوالمنافع فعاریۃ اواحتمل اعتبر النیۃ،نوازل [3]۔ |
درمختار میں ہے اگر الفاظ غلام پر تملك کی خبر دیں توہبہ ہوگا، اگر الفاظ منافع پر دال ہوں تو عاریۃ ہوگا اور لفظ محتمل فیہ ہو تو قائل کی نیت کا اعتبار ہوگا۔نوازل(ت) |
درباب افتا جابجا علامہ خیر الملۃ والدین رملی وغیرہ علماء رحمہم اﷲ تعالٰی نے سوال تملیك پر ہبہ کا جواب عطا فرمایا اور اس پر مشاع وغیرہ کے وہی احکام جاری کئے اور تملیك نامہ کو صریحا ہبہ نامہ ٹھہرایا،فتاوٰی خیریہ لنفع البریہ میں ہے:
|
سئل فیما اذا ملك زوجتہ نصف جمل و نصف بقرۃ و نصف غراس زیتون تملیکا شرعیا بایجاب منہ و قبول منہا و قبضت الزوجۃ وتسلمت ثم مات الزوج ویرید وارثہ ان یجعل المملکات |
ان سے سوال ہوا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو نصف اونٹ، نصف بیل،نصف باغ زیتون کا شرعی تملیك کے طور پر مالك بنائے باقاعدہ ایجاب و قبول ہو اور بیوی قبضہ کرلے پھر وہ خاوند فوت ہوجائے اور ورثاء چاہیں کہ ان تمام تملیك بنائی ہوئی چیزوں کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع