30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہی متبادر ہوتاہے حتی کہ امام اجل شمس الائمہ رخسی رحمہ اﷲ تعالٰی نے محیط میں اسے ان الفاظ سے گنا جو بحسب وضع افادہ ہبہ کرتے ہیں۔فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
|
اما الالفاظ التی تقع وبہا الھبۃ فانواع ثلثۃ نوع تقع بہ الھبۃ وضعا ونوع تقع بہ الھبۃ کنایۃ وعرفا ونوع یحتمل الھبۃ والعاریۃ مستویا اما الاول فکقولہ وھبت ھذا الشیئ لك اوملکتہ منك [1] الخ۔ |
لیکن جن الفاظ سے ہبہ ہوتاہے وہ تین قسم ہیں۔ایك قسم وہ ہیں جن سے ہبہ کا وقوع وضعا ہوتاہے اور ایك قسم وہ ہے جن سے کنایۃ اور عرفا ہبہ ہوتاہے اور ایك قسم وہ جن سے ہبہ اور عاریۃ دونوں مساوی طور پر واقع ہوتے ہیں۔پہلی قسم کی مثال "میں نے یہ چیز تجھے ہبہ کی"یا یہ کہنا"میں نے تجھے اس کامالك بنایا"الخ(ت) |
ولہذا کلمات علماء میں اکثر جگہ تملیك سے ہبہ پر استدلال پایا جاتاہے مع ظھور ان الاستدلال بالعام علی الخاص باطل لجواز وجودہ فی ضمن فرد اٰخر(باوجود ظاہر ہونے کہ عام سے خاص پر استدلال باطل ہے کیونکہ ہوسکتاہے کہ عام کا وجود کسی دوسرے میں پایا جائے۔ت)امام علامہ فقیہ النفس قاضی خان فرماتے ہیں:
|
رجل غرس کرما ولہ ابن صغری فقال جعلتہ لابنی فلان یکون ھبۃ لان الجعل عبارۃ عن التملیك [2]۔ |
ایك شخص نے انگور کے پودے لگائے اس کا نابالغ بیٹا ہے،تو اس نے کہا کہ میں نے اس کو اپنے فلاں بیٹے کے لئے کیا تو ہبہ ہوگا کیونکہ بنانا اور کرنا تملیك کا معنی ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
ان قال جعلتہ باسم ابنی یکون ھبۃ ظاھرا لان الناس یریدون بہذا التملیك والھبۃ [3]۔ |
کسی نے کہا میں نے یہ بیٹے کے نام سے بنایا تو ظاہرا یہ ہبہ ہوگا، کیونکہ لوگ اس سے تملیك اور ہبہ مراد لیتے ہیں۔(ت) |
اور علامہ بیری شارح اشباہ والنظائر فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع