30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لوکان الولد مشتغلا بالعلم لابالکسب فلا باس بہ ان یفضلہ علی غیرہ کذا فی الملتقط [1]۔ |
اگر کوئی بیٹا علم دین میں مشغول ہونے کی وجہ سے کسب نہیں کرتا تو اس کو دوسروں سے زائد دینے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے۔(ت) |
اور جب یہ تفاوت شرعا جائز ہے اور صورت مسئولہ میں جس بیٹے کو ترجیح دی گئی حسب بیان سائل فضل دینی میں زیادہ ہے تو اس بنا پر کیونکر گمان ہوسکتاہے کہ وہ فعل ابو محمد کا نہ تھا یا وہ اس تفاوت پر راضی نہ تھا،یا تھا تو اس کی عقل میں کچھ اختلال تھا ہم بتصریح علماء نقل کرآئے کہ تمام اولاد کو محروم کرکے کل مال ایك کو دے دینا بھی صحیح ونافذ ہے پھر جب شرع ایسے مکروہ تصرف کو جس میں عنداﷲ مواخذہ ہے صحیح وتمام مانتی ہے اور اس قسم کے خیالات کو گنجائش نہیں دیتی تو یہ تصرف جس میں کسی طرح حرج شرعی نہں کیونکر مورد ان خیال کا ہوسکتاہے اسی طرح یہ احتمال بھی کہ ممکن ہے کہ آئندہ بعض اولاد باقیں سے کوئی شخص فضل دینی میں اس پر بڑھ جائے تو اس وقت اس کے فضل پر خیال کرکے کیونکر اسے ترجیح دیں ہرگز ٹھیك نہیں کہ شرع مطہر حالت موجودہ پر حکم دیتی ہے آخر علم غیب خدا کو ہے ایسے ہی خطرات کو جگہ دی جائے تو علماء کے اس حکم کا کوئی محل نہ ملے کہ جب اس مسئلہ پر عمل کرکے ایك ولد کو زیادہ دینا چاہیں فورا یہ احتمال قائم ہوسکتاہے کہ کیا معلوم آئندہ باقین میں سے اس سے کوئی بڑھ جائے،علماء نے کہ ترجیح افضل کی اجازت دی ہے حکم مطابق رکھا ہے کسی کے بلوغ وعدم بلوغ کی قید نہیں لگائی ہرگز کوئی شخص کسی ایك کتاب میں بھی نہیں دکھا سکتا کہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب بقیہ اولاد میں کوئی بالغ ہو اور وجہ اس کی نہایت ظاہر کہ حیات مورث میں ورثاء اس کی جائداد کے مالك نہیں ہوجاتے جو ایك کو زیادہ دینا نابالغ کے مال میں تصرف ٹھہرے ہر شخص اپنی صحت میں اپنے مال کامختار ہے اگر کسی اجنبی کو دے دے تو کون ہاتھ روك سکتاہے علی الخصوص فاطمہ کا کہ زندہ وموجود ہے اس تفاوت پر راضی ہونا بالکل ایسے خیالات کو دفع کرتاہے کہ یہی علت بعینہٖ وہاں موجود ہے اب کیا یہ گمان کرسکتے ہیں کہ فاطمہ اس فعل پر راضی نہیں یا راضی ہے تو اس کی عقل میں کچھ اختلال ہے،اور جب یہاں ایسا خیال نہیں کرسکتے اور باوجود یہ کہ ماؤں کو اولاد صغر کی محبت سب سے زیادہ ہوتی ہے وہ اس تفاوت پر بوجہ احمد کے فضل دینی کے صریح رضامند ہے تو ابومحمد کی رضا مندی بدرجہ اولیٰ قابل تسلیم ہوسکتی ہے اور حامد پسر بالغ کا اپنے برادر کلاں کی ترجیح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع