30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابومحمد نے وفات پائی،فاطمہ زندہ ہے ان کا ان امور میں شریك ہونا اور دستاویز لکھوانا اور اس تقسیم متفاوت پر راضی ہونا یقینا ثابت ہے،اسی طرح حامد بالغ کا بھی اپنے برادر کلاں احمد کی ترجیح پر راضی ہونا یقینی،آیا ایسی صورت میں بعد انتقال ابومحمد کے صرف اس وجہ پر بیٹوں کے دینے میں باہم فرق کیا گیا اگر وہ خود دیتا تو برابر دیتا یہ گمان ہوسکتا ہے کہ یہ فعل ابومحمد کا نہیں یا اس نے دستاویز نہ لکھوائی یا وہ اس تفاوت پر راضی نہ تھا یا اس کا فعل مانا بھی جائے تو اس بنا پر گمان کرسکیں کہ اس کی عقل میں اختلال تھا ورنہ تفاوت نہ کرتا یا ایسا نہیں ہے۔اور اولاد میں کسی کو بوجہ فضل دینی کے ترجیح دی جائے تو شرعا جائز،اور یہ تصرف نافذ ہے۔یا اس خیال سے کہ بعض اولاد نابالغ ہیں یا کیا معلوم بقیہ اولاد سے آیندہ کوئی اور شخص فضل میں زیادہ ہوجائے اجازت نہ دیں گے۔بینوا توجروا
الجواب:
نفاذ کے لئے تو اگر کوئی شخص غیر محجور اپنی ساری جائداد ایك ہی بیٹے کو دے دے اور باقی اولاد کو کچھ نہ دے تو یہ تصرف بھی قطعا صحیح ونافذ ہے اگرچہ عنداﷲ گنہگارہوگا گناہگاری کو عدم نفاذ تصرف سے کچھ علاقہ نہیں، درمختار میں ہے:
|
ولووہب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم [1]۔ |
اگر اپنی صحت میں تمام مال بیٹے کو ہبہ کردیا تو جائز ہے اور گنہگار ہوگا۔(ت) |
اورا گر فضل دینی کے سبب بعض اولاد کو ترجیح دی جائے تو یہ بلاکراہت جائز ہے اس میں عنداﷲ بھی کچھ مواخذہ نہیں،
|
فی الخانیۃ روی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین وان کانا سواء یکرہ [2]۔ |
خانیہ میں ہےکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سےمروی ہےاگر اس کو دینی فضیلت حاصل ہو تو اس کو زیادہ دینے میں حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں پھر ایك کو زائد دینا مکروہ ہے۔(ت) |
عالمگیریہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع