30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکذٰلك قبض الھبۃ فینوب احدہما عن الاخر من دون حاجۃ الی قبض جدید قال فی التنویر وشرحہ الدر وملك بالقبول بلاقبض جدید لو الموھوب فی یدالموہوب لہ ولو بقبض اوامانۃ لانہ ح عامل لنفسہ والاصل ان القبضین اذا تجانسا ناب احدہما عن الاخر واذا تغایر اناب الاعلی عن الادنٰی [1]،پس ازیں قسم اشیاء ہر چہ کہ بدست ہندہ بود بمجرد ایجاب و قبول از دائرہ ملك زید بحوزہ تملك ہندہ انتقال نمود ہمچنیں اگر زید درحیات خودش چیزے بقبض کامل ہندہ داد یاہندہ باذن او خواہ درمجلس ہبہ بلااذن وے بر چیزے قبضہ تامہ کردآنہمہ مملوك ہندہ گردید وانچہ مطلقا بے قبض مشاع باشد خواہ مفرز در آنہا ہبہ باطل شد کما ثبت من انہا لا تفید الملك الا بالقبض وتبطل بموت احد ہما قبل التسلیم وگمان بزند کہ چوں عقد واحد دربعض معقود علیہ کہ اشیائے غیر مقبوضہ است بود بطلان گرفت درباقی نیز از حلہ صحت
|
ہوجاتا ہے جدید قبضہ کی ضرورت نہیں ہوتی،تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے کہ صرف قبول کرنے سے مالك ہوجائے گا جدید قبضہ کی ضرورت نہ ہو گی جب وہ چیز پہلے ہی موہوب لہ کے قبضہ میں ہو اگرچہ وہ قبضہ بطورقابض یا امانت ہی کیوں نہ ہو،کیونکہ اس میں اس نے خود اپنے لئے عمل کرناہے اور قاعدہ یہ ہے کہ دونوں قبضے ہم جنس ہوں یا ایك قوی اور ایك ادنی ہو،تو ہم جنس ایك دوسرے اور اقوی ادنٰی کے قائم مقام ہوجاتاہے،پس ازیں قسم اشیاء جوہندہ کے قبضہ میں اس وقت تھیں وہ سب محض ایجاب وقبول کرلینے پر زید کی ملکیت سے نکل کر ہندہ کی ملکیت ہوگئیں اور یونہی وہ چیزیں جن کا زید نے اپنی زندگی میں ہندہ کو مکمل قبضہ دے دیا خود ہندہ نے اس کی اجازت سے مجلس ہبہ یا اس کے بعد جس چیز کو قبضہ میں مکمل لے لیا بلکہ بلااجازت بھی قبضہ سے وہ مالك ہوگئی لیکن وہ مال مشاع غیر منقسم خواہ منقسم ہو قبضہ نہ دیا ہو ان سب میں ہبہ باطل ہوگیا جیسا کہ ثابت ہے کہ ہبہ قبضہ کے بغیر مفید ملك نہیں ہوتا اور قبضہ دینے سے قبل ایك فریق کے فوت ہوجانے سے باطل ہوجاتاہے۔اور یہ خیال کرنا کہ ایك عقد کی بعض غیر مقبوضہ اشیاء میں ہبہ باطل ہوجانے پر تمام اشیاء میں باطل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع