30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل [1]۔ودرعالمگیریہ از کتاب الاصل می آورد اذا مات الواہب قبل التسلیم بطلت [2]سائل از ہمیں قدرمے پر سداماتمام حکم و حق انصاف دریں جا آنست کہ زید ہبہ اش رابرہمیں اشیائے مشاعہ مقصورنگزاشتہ بود بلکہ ہر انچہ ازان دے باشد ہمہ را ہبہ نمود وایں چنیں ہبہ شرعا رواست وبعد قبضہ تام ونافذ ومفید ملك شد فی الخانیۃ لوقال جمیع مالی او جمیع مااملك لفلان فہو ہبۃ لایجوز الا بالتسلیم [3]،وعادت آنچناں ست کہ چیز از املاك خالصہ شوہر مانند نقود عروض لباس واثاث وزیور وظروف وغیرہا امتعہ ورقمش از جانب شوہر بدست زناں برسبیل ودیعت یا اباحت می باشد ودرہمچوں مقام اگر ہبہ واقع شود حاجت بقبض جدید نمی افتد فان قبض الودیعۃ و الاباحۃ کل واحد منہما قبض غیر مضمون |
ہوجانے کے بعد فریقین میں سے ایك کا فوت ہوجانا اوراگر قبضہ سے پہلے فوت ہو تو ہبہ باطل ہوگا۔اور عالمگیری میں مبسوط کے حوالہ سے مذکو رہے جب ہبہ کرنیوالا قبضہ دینے سے قبل فوت ہوجائے ہبہ باطل ہوجاتاہے،سائل کا سوال اسی قدر تھا،لیکن مکمل حکم اور پوراانصاف اس میں یوں ہے کہ زید نے اپنا ہبہ صرف مشترکہ مشاع تك محدود نہ رکھا بلکہ اس نے اپنی ہر چیز کو ہبہ میں شامل کردیا جبکہ ایسا ہبہ شرعا جائز ہے اور قبضہ دینے پر تام اور نافذ ہوکر مفید ملك ہوجاتا ہے،خانیہ میں ہے اگر کسی نے کہا میرا تمام مال یا جس چیز کا میں مالك ہوں وہ فلاں کے لئے ہے تو ہبہ ہوگا جو صرف قبضہ دینے پر جائز ہوگا،اور عادتًا شوہر کی طرف سے بیوی کے پاس امانت یا اباحت کے طور پر بیوی کے پاس بہت سا سامان مثلا نقد،لباس،اثاثہ،زیور،برتن،وغیرہا ہوتاہے۔ایسی صورت میں اگر خاوند ان چیزوں کا ہبہ بیوی کو کرے تو بیوی کو جدید قبضہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ امانت اور اباحت کا قبضہ غیر مضمون ہوتاہے اور ہبہ کا قبضہ بھی ایسا ہے تو یہ قبضہ ایك دوسرے کے قائم مقام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع