30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے حصہ میں سے کچھ نہ ملے گا البتہ بر تقدیر ثبوت ہبہ ثلث مال بوجہ ہبہ کے لے گی،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۱: از مراد آباد ۱۸ شعبان ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو دختر اور دو پسر ہیں وہ چاہتاہے کہ اپنا مال اپنی زندگی میں بحالت صحت نفس ان چاروں کو عطا کرے۔آیا برابر تقسیم کرے یا بطور فرائض " لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ "[1](مرد کودو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ت)بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مذہب مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے،یہی قول امام ابویوسف کا ہے اور " لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ "[2](مرد کو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ت)دینا بھی جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اﷲ کاہے ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترك اولٰی ہے۔ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے:
|
الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثٰی افضل من التثلیث الذی ہو قول محمد [3]۔ |
فتوٰی امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر ہے کہ مرد اور عورت کو نصف نصف دینا،مرد کو دو اور عورت کو ایک،تین حصے بنانے سے بہتر ہے اور یہ تین حصے امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی کا مذہب ہے(ت) |
حاشیہ طحطاوی میں فتاوٰی بزازیہ سے ہے:
|
الافضل فی ہبۃ البنت والابن التثلیث کالمیراث و عند الثانی التنصیف وھو المختار [4]۔ |
بیٹی اور بیٹے کو ہبہ دینے میں تین حصے میراث کے طورپر افضل ہے۔اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك نصف نصف دینا افضل ہے اور یہی مختار ہے۔(ت) |
بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہب مختار پر اولٰی تسویہ،ہاں اگر بعض اولاد فضل دینی میں بعض سے زائد ہو تو اس کی ترجیح میں اصلا باك نہیں۔علامہ طحطاوی نے فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع