30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاب لطفلہ [1]۔ |
بچے کو ہبہ کرے۔(ت) |
اور سکونت ومرمت کی شرطیں اگرچہ بیجاہیں مگر ہبہ شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرطیں فاسد و بے اثر ٹھہرتی ہیں۔درمختار میں ہے:
|
وحکمہا انہا لاتبطل بالشروط الفاسدۃ فہبۃ عبد علی ان یعتقہ تصح وتبطل الشرط[2] اھ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہبہ کا حکم یہ ہے کہ وہ فاسد شرطوں سے فاسد نہیں ہوتا لہذا غلام کو ہبہ کرتے ہوئے شرط لگانا کہ موہوب لہ اسے آزاد کرے گا،صحیح ہوگا اور شرط باطل ہوگی اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ۷۰:(نوٹ:اصل میں بیاض ہے،سوال دستیاب نہ ہوسکا)
الجواب:
صورت مسئولہ میں اگر قبضہ مال موہوب پر قبل موت واہب کے ہوگیا تو ہبہ تمام ہے مگر ثلث مال میں صحیح ہوگا کہ ہبہ مرض موت میں ہوا پس ثلث مال موہوب لہا کو ملے گا اور دو ثلث ورثہ کو،اور اگر قبضہ بعد موت واہب کے ہوا تو ہبہ باطل ہے کل مال ورثہ واہب کو ملے گا۔
|
قال فی العالمگیریۃ قال فی الاصل ولاتجوز ہبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت فجازت من الثلث واذا مات الواہب قبل التسلیم بطلت [3]۔ |
عالمگیری میں فرمایا کہ مبسوط میں ہے کہ مریض کا ہبہ اور اس کا صدقہ جائز نہیں الایہ کہ موہوب لہ کو وہ قبضہ دے دے، اگرقبضہ دیا تو تہائی مال سے شمار ہوگا اور اگر یہ واہب مریض قبضہ دینے سے قبل فوت ہوگیا تو ہبہ باطل ہوجائیگا(ت) |
پھرا گر زوجیت موہوب لہا کی ثابت ہوگئی تو وہ اور زوجہ اولٰی ثمن حق ورثہ میں خواہ دو ثلث ہو یا کل شریك ہیں ورنہ عــــــہ ثمن بتمامہ زوجہ اولٰی کا ہے اور مابقی اس کی اولاد کا اور موہوب لہا کو وارثوں
عــــــہ:فی الاصل"ورثہ"وھوزلۃ من قلم الناسخ ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع