30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الدرالمختار مرض الموت ان لایخرج لحوائج نفسہ وعلیہ اعتمد فی التجرید،بزازیۃ،والمختار انہ ماکان الغالب منہ الموت وان لم یکن صاحب فراش،قہستانی عن ہبۃ الذخیرۃ [1]۔ |
درمختار میں مرض الموت کی تفسیر میں فرمایا گیا(کہ موت سے قبل)اپنی ضروری بنیادی حوائج کے لئے گھر سے نکل نہ سکے،تجرید میں اسی پر اعتماد کیا ہے،بزازیہ،قہستانی نے ذخیرہ کے باب الہبہ کے حوالہ سے کہا ہے کہ مختاریہ ہے کوئی بھی ایسا عارضہ جس سے غالبا موت واقع ہوجاتی ہو اگر چہ صاحب فراش نہ ہوا ہو۔(ت) |
صورت مسئولہ میں جبکہ زید صاحب فراش نہ تھا اور دمہ مرض قاتلہ سے نہیں بلکہ غالب اس میں سلامت ہے تو یہ مرض اس کا باتفاق تفسیرین مرض موت نہ قرارپائے گا علی الخصوص جبکہ اسے عرصہ دس بارہ برس کا گزر چکا تھا۔
|
فی الدرالمختار وھبۃ مقعد ومفلوج واشل ومسلول من کل مالہ ان طالت مدتہ سنۃ ولم یخف موتہ منہ والا تطل وخیف موتہ فمن ثلثہ لانہا امراض مزمنۃ لاقاتلۃ [2] اھ ملخصا۔ |
درمختار میں ہے کہ جڑا ہوا ہو،مفلوج ہو،شَل ہو،اور مرض سل والا ہو تویہ امراض ایك سال طویل ہوں اور موت کا اندیشہ نہ ہو توان کا ہبہ کیا ہوا ان کے کل مال سے ادا ہوگا اور اگریہ امراض طویل نہ ہوں موت کا اندیشہ ہوتو اس حال میں ان کا ہبہ تہائی مال سے ادا ہوگا کیونکہ یہ امراض لا چار کرتے ہیں فوری مہلك نہیں ہیں۔(ت) |
پس یہ ہبہ بلا شبہ صحیح ونافذ ہوگا اور قبضہ نہ ہونا کچھ مضر نہیں کہ ہبہ بالعوض حقیقۃ بیع ہے اور بیع میں قبضہ غیر مشروط،
|
فی الدرالمختار لو قال وھبتك بکذا فہو بیع ابتداء و انتہاء [3] اھ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے اگر کسی نے ہبہ کرتے ہوئے کہا فلاں چیز کے عوض تجھے ہبہ کیا تو اول آخر وہ بیع قرار پائے گا اھ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع