30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس قرض کا مطالبہ زید خواہ عمرو وخالد سے کرسکتاہے کہ مدیون یہ ہے نہ وہ۔
|
فی تنویر الابصار لو اعار ارضا للبناء والغرس صح ولہ ان یرجع متی شاء ویکلفہ قلعہما الا اذا کان فیہ مضرۃ بالارض فیترکان بالقیمۃ مقلوعین [1]۔ |
تنویر الابصارمیں ہے اگر عمارت اور درخت لگانے کے لئے زمین عاریۃ دی تو صحیح ہے اور اس کو جب چاہے واپس لینے کا حق ہے اور وہ مستعیر کو اکھاڑنے کا پابند بناسکے گا ہاں اگر عمارت ودرخت اکھاڑنے میں زمین کو نقصان ہو تو دونوں باہمی رضامندی سے ملبہ کی قیمت پر زمین پر ان کو باقی رکھ سکتے ہیں۔(ت) |
طحطاوی میں ہے:
|
وان رضی رب الارض بالنقص قلعہما ولا یجبر علی الضمان [2] اھ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگر مالك زمین کے نقصان پر راضی ہے تو مستعیر کو اکھاڑنے ہوں گے،مالك کو ملبہ کی قیمت برابر ضمان پر مجبورنہیں کیا جاسکتا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۶۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو عرصہ دس بارہ سال سے عارضہ دمہ کا تھاکبھی شدت ہوجاتی کبھی کم ہوجاتا،سوا اس کے کوئی اور مرض نہ تھا،نہ زید صاحب فراش ہوا بلکہ مثل تندرستوں کے چلتا پھرتا،اسی حالت میں اس نے کل جائداد اپنی ہندہ اپنی زوجہ کو بعوض اس کے مہر کے بحالت ثبات ہوش وحواس کے ہبہ کی اور بغیر قابض کرائے دوسرے روز انتقال کیا،اس صورت میں یہ ہبہ صحیح ونافذ ہوگا یا نہیں۔اور ایسی ہبہ میں قبضہ مشروط ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
مرض موت کی تفسیر میں اختلاف ہے،بعض کے نزدیك صاحب فراش ہونا ضرور،تجرید میں اسی مذہب کو معتمد قرار دیا اور مختار یہ ہے کہ اس مرض کا قاتل ہونا چاہئے کہ مبتلا اس کا غالبا نہ بچتا ہو جب تك خوف موت غالب رہے مرض موت ہے اگرچہ مثل تندرستوں کے چلے پھرے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع