30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان کانت مطلقۃ لہ ان یجبر المستعیر علی قلع الغرس ونقض البناء واذا قلع ونقض لایضمن المعیر شیئا من قیمۃ الغرس البناء [1] اھ۔ |
ہاں اگر مطلقہ ہو تو مالك کو جبرامکان اور درخت اکھاڑنے کا حق ہے اگر عمارت اور درخت اکھاڑدئے تو مالك پر کوئی ضمان نہ ہوگا اھ(ت) |
طحطاوی میں ہے:
|
ولایضمن مانقص من البناء والغرس لعدم الغرور عند عدم التوقیت افادہ الزیلعی [2]۔ |
عاریۃ دینے والا مالك عمارت او ر درختوں کے نقصان کا ضامن ہوگا،کیونکہ مقررہ وقت تك عاریۃ نہ ہونے کی وجہ سے عمارت اور درخت باقی رکھنے کا جواز نہیں امام زیلعی نے یہ افادہ فرمایا ہے۔(ت) |
اور اگر بکر چاہے کہ میں عملہ برقرار رہنے دوں اور زید مجھے قیمت دے دے تو یہ امررضامندی زید پر موقوف رہے گا اس پر بکر کو جبر نہیں پہنچتا۔
|
فی الہندیۃ فان طلب المستعیران یضمن المعیر قیمۃ البناء والغرس مقلوعا فانہ لایجبر علی ذٰلك ویکلفہ علی القلع [3]۔ |
ہندیہ میں ہے اگر مستعیر چاہے کہ مالك عمارت اور درختوں کے ملبے کی قیمت برابر ضمان دے تو اس پر مالك کو مجبور نہیں کیا جاسکتا اس کو بہر حال عمارت اور درخت اکھاڑنے ہوں گے۔(ت) |
اور اگر قلع بناسے زمین کو ضرر بین پہنچے تو بکر خود اختیار قلع نہیں رکھتا بلکہ اب اختیار زید کو ہے چاہے اپنے نقصان زمین پر راضی ہو اور بکر پر جبر کرے کہ عملہ اکھیڑلے جائے یاعملہ کو اپنی ملك کرلے اور بکر کو بنائے مقلوعہ کی قیمت دے یعنی یہ عملہ اگر اکھیڑ کر بیچا جائے تو اس حالت میں خریدار اس کے کیا دام لگائیں گے،اسی قدر حوالہ زید کرے باقی زید کی لاگت کا کچھ اعتبار نہیں،نہ وہ زوجہ اور ماموں کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع